خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 365

خطبات محمود ۳۶۵ سال ۱۹۳۰ ہیں اور ہر شہر میں شرفاء کی تعداد زیادہ ہوتی ہے بلکہ اگر چوہڑوں کی بستی میں بھی چلے جاؤ اور ان کے سامنے کوئی بات ان کی شرافت کے امتحان کے لئے پیش کرو تو میں پورے وثوق سے کہتا ہوں اور یہ کوئی دینی مسئلہ نہیں ورنہ میں اس کے لئے انعام دینے کو بھی تیار تھا کہ ان میں سے بھی اکثر معیار شرافت پر پورے اُتریں گے۔اس لئے اول تو یہ خیال ہی غلط ہے کہ سارا بٹالہ مخالف ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا اور انسانیت اتنی گندی نہیں ہو سکتی کہ سارا شہر ہی ذلیل کام پر اتر آئے۔چند لوگوں سے سارے شہر پر قیاس کر لینا درست نہیں۔بٹالہ کے شرفاء بھی ہمارے بھائی اور انسانیت میں ہمارے شریک ہیں اور ہم ان کے لئے بھی ویسے ہی مبعوث ہیں جیسے باقی دنیا کے لئے۔اس لئے میں ان پر ایسی بدظنی کرنے کو تیار نہیں۔شریر لوگ رُعب ڈالنے کے لئے ہمیشہ ایسی باتیں کیا کرتے ہیں کہ ساری دنیا ہمارے ساتھ ہے۔کیا یہی پلید فطرت مستری یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ سارا قادیان ہمارے ساتھ ہے خلیفہ کے مؤید صرف ان کے چند تنخواہ دار نوکر ہی ہیں۔لیکن اگر اندر سے سارے ہی قادیان کے لوگ ان کے ساتھ تھے تو پھر قادیان کے لوگوں سے آج وہ چھپتے کیوں پھرتے ہیں۔ان کے خلاف لوگوں کی طبائع میں جوش اور ہیجان بتاتا ہے کہ وہ جھوٹے تھے۔صرف چند ایک منافق ان کے ساتھ ہوں گے جن کی تعداد چالیس سے زیادہ کسی صورت میں بھی نہیں ہو سکتی حالانکہ یہاں احمدی آبادی قریباً تین ہزار ہے اور پھر ان چند ایک منافقین میں سے بھی کسی کو ان کا ساتھ دینے کی جرات نہیں ہوئی۔ہاں آج ان میں سے بعض کا نام لیکر میں انہیں ان کے ساتھ شامل کر دوں گا لیکن ان کو ہمت نہ ہوئی کہ کسی ایک کو بھی ساتھ لے جاسکیں یہ ہماری مہربانی ہوگی کہ چند ایک کو خود ان کے ساتھ ملا دیں گے۔تو یہ بالکل جھوٹ ہے کہ سارا بٹالہ مخالف ہے۔فسادی لوگ ہمیشہ اسی طرح ڈرایا کرتے ہیں۔ڈاکو اپنا جتھہ بہت ظاہر کیا کرتے ہیں لیکن جب پکڑے جائیں تو ان کی تعداد پانچ سات یا دس پندرہ ہی ہوا کرتی ہے۔پس یہ جو مشہور کیا جا رہا ہے کہ سارا بٹالہ قادیان پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہے غلط ہے۔بٹالہ بھی قادیان اور دوسرے شہروں کی طرح شرفاء سے بھرا پڑا ہے۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ شرفاء بد معاشوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن میں اس بدظنی کے لئے بھی تیار نہیں کہ وہ ان کے مؤید ہیں اور آپ لوگوں کو بھی اس بدظنی سے روکتا ہوں۔لیکن جو شریر آنا چاہتے ہیں ان کو آنے دو اور پہلے حملہ کرنے دو پھر بے شک تم بھی ان کے گھر پر جاؤ اُس وقت میں نہیں روکوں گا لیکن اس سے پہلے ایک اور قدم