خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 353

خطبات محمود ۳۵۳ سال ۱۹۳۰ء ہمارے ملکی لیڈر بھی ایک حد تک حق بجانب ہیں اور بعض حقوق اب ہندوستان کو ضرور ملنے چاہئیں اور ان کے لحاظ سے ہم بھی ان لوگوں کے ساتھ ہیں خواہ وہ گاندھی جی ہوں یا نہر دیا ہمارے سلسلہ کا منہ پھٹ دشمن ”زمیندار ہی کیوں نہ ہو مگر بعض باتوں میں ہم گورنمنٹ کو بھی حق بجانب سمجھتے ہیں اور اس کی تائید کرتے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ جب کوئی قوم اپنی حفاظت کے لئے کھڑی ہوتی ہے تو اس کو اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ دوسرے معاملات میں دخل دے سکے اور اگر ہمیں اپنی حفاظت کے لئے اُٹھنا پڑا تو ہم نہ تو حکومت کی کوئی مدد کر سکیں گے اور نہ ہی ملک کے سیاسی لیڈروں کی۔پس اگر یہاں کی پولیس میں اتنی جرات ہے کہ وہ اس آگ کو بھڑ کا سکے تو اس کی مرضی اس صورت میں میں سمجھتا ہوں گاندھی جی کو کوئی ضرورت نہ ہوگی کہ گورنمنٹ کو کمزور کرنے کے لئے جتھے بناتے پھریں اور والنٹیئر بھرتی کریں ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہندوستان کی پولیس کو اپنا کام کرنے دیں کیونکہ جو کچھ وہ کرتی ہے وہ گاندھی جی کی ہی تائید ہے اور اس میں سے کئی افسروں کے افعال لوگوں کو گورنمنٹ سے باغی کرنے کے لئے بالکل کافی ثابت ہوں گے کیونکہ باغی وہی ہوتا ہے جو تعاون نہ کرے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک گزشتہ جلسہ میں جو بعض احمدیوں نے تقریریں کی ہیں انہیں پولیس نے عام ریمارک سمجھا ہے حالانکہ وہ عام ریمارک نہ تھے۔لیکن جو افسر بھی یہ خیال کرتا ہے کہ میرا قصور نہیں اسے چاہئے کہ اپنے رویہ سے اس کا ثبوت بہم پہنچائے اور شریروں کو سزا دے اور اپنی طاقت استعمال کر کے ناجائز کارروائیاں کرنے والوں کی گرفت کرے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو ہم یہ سمجھنے کے لئے مجبور ہیں کہ وہ بھی ان کے ساتھ ہے۔جب اس بات کو تسلیم کیا جا چکا ہے کہ بعض نے غلطی کی ہے تو ضروری ہے کہ غلطی کرنے والوں کی گرفت کی جائے۔اب مقدمہ عدالت میں جاچکا ہے اور وہاں جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ کسی موقع پر بھی بزدلی نہ دکھائے۔اگر کسی نے کسی کو کچھ کہا ہے تو صاف طور پر اقرار کر لے کہ ہاں میں نے ایسا کیا ہے اور اگر کوئی اس کے پاس آکر اسے کہے کہ اپنے قصور سے انکار کر دے تو وہ سمجھ لے کہ وہ اس کا دشمن ہے جو اس کی دنیا کے ساتھ اس کی روحانیت کو بھی تباہ کرنا چاہتا ہے اور ایسے شخص کو پکڑ کر میرے پاس لانا چاہئے۔اول تو تمہارا فرض یہ ہونا چاہئے کہ اپنے نفسوں پر قابو رکھو لیکن اگر حد درجہ اشتعال کے وقت کبھی بات ہاتھ سے نکل جائے تو ضروری نہیں انسان ہر سچائی کو ہر ایک