خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 330

خطبات محمود ۳۳۰ سال ۱۹۳۰ء لاؤں۔پیر صاحب نے کہا نہیں کوئی ضرورت نہیں لیکن جب گاڑی چل پڑی اور ابھی پلیٹ فارم سے کچھ ڈور گئی ہوگی کہ پیر صاحب نے گاڑی سے سر نکال کر نوکر کو آواز دی کچھ کھانے کو ہے تو لاؤ میرا بھوک سے بُرا حال ہے۔میں نے دل میں کہا ان لوگوں کی حالت کا ایک نمونہ تو یہ ہے جو اس وقت نظر آیا۔نوکر نے کہا اس وقت تو کچھ نہیں۔پیر صاحب نے فرمایا۔خشک میوہ جو تھا وہی لاؤ۔نوکر نے خشک میوہ جو پشاور کی طرف سے آتا ہے لا کر دے دیا۔آپ نے اسے کھانا شروع کیا لیکن معاً خیال آیا ایک اور بھی آدمی پاس بیٹھا ہے اس پر مجھے کہا آپ بھی کھائیں۔میں نے کہا مجھے نزلہ کی شکایت ہے اور ترش میوہ نزلہ پیدا کرتا ہے اس لئے معذور ہوں۔لیکن پیر صاحب نے کہا کہ اللہ نے جو کرنا ہے وہ تو ہو کر ہی رہے گا تقدیر کو کون ٹال سکتا ہے اس لئے آپ اس کا کچھ خیال نہ کریں اور کھائیں۔میں نے کہا پیر صاحب بڑی غلطی ہوئی اور اس غلطی سے آپ کا بھی نقصان ہوا اور میرا بھی۔ہم نے یونہی ٹکٹ لئے اور پیسے خرچ کئے اگر خدا تعالیٰ کو ہمارا پہنچا نا منظور ہوتا تو خود ہی پہنچ جاتے ٹکٹ لے کر گاڑی پر سوار ہونے کیا ضرورت تھی۔اس پر وہ کہنے لگے آخر اللہ تعالیٰ نے اسباب بھی تو پیدا کئے ہیں۔میں نے کہا یہی تو میرا مطلب تھا جسے آپ تقدیر سے غلط ثابت کرنا چاہتے تھے۔آخر میں نے ان سے دوا انجیریں لے لیں اور کہا کھاتا تو نہیں لیکن لے لیتا ہوں۔وہ مجھ سے ایک دوست نے لے لیں کہ جب پیر صاحب احمدی سے گفتگو کرنے کی وجہ سے کسی کے نکاح کے فسخ ہونے کا فتوی دیں گے تو میں یہ نکال کر اُن کے سامنے رکھ دوں گا کہ پہلے آپ اپنا تو نکاح دوبارہ پڑھوائیں۔تو آج کل لوگوں نے تو کل کا عجیب مفہوم سمجھ رکھا ہے جو کام اپنے مطلب کا ہوتا ہے اسے تو کر لیتے ہیں اور جو نہیں کرنا چاہتے اس کے متعلق تو گل کہہ دیتے ہیں۔حالانکہ تو کل کا مفہوم اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بیان فرمایا ہے۔ایاک نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے معنی تَوَكَّلْ عَلَى الله کے ہیں۔تو کل کے دو حصے ہوتے ہیں عملی اور ایمانی۔گویا یہ لفظ اپنے اندر دو شاخیں رکھتا ہے ایک عمل اور دوسرا عقیدہ کے لحاظ سے۔جو حصہ عمل سے تعلق رکھتا ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ میں نے اپنے کام کو پورے طور پر خدا تعالیٰ کے سپر د کر دیا ہے۔اگر کوئی شخص کسی سے کہے کہ میں نے اپنے نکاح کا معاملہ آپ کے سپرد کر دیا ہے تو کیا کبھی یہ بھی دیکھا ہے کہ جس کے سپرد کیا گیا ہو نکاح کرنے والے کی جگہ وہی ایجاب و قبول بھی کرلے۔کسی کے سپر د کر دینے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ اس