خطبات محمود (جلد 12) — Page 288
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء مخالفت تھی اور اس کے خلاف نہایت زور وشور سے پروپیگینڈا کیا گیا۔اب جبکہ کانگریس نے مکمل آزادی کا اعلان کیا ساتھ ہی نہرورپورٹ کی موقوفی کا بھی اعلان کر دیا اور قرار دے دیا کہ آئندہ جب کوئی حکومت قائم ہو جائے گی تو کوئی ایسا نظام حکومت قائم نہیں کیا جائے گا جس سے مسلمان اور دیگر اقلیتیں رضامند نہ ہوں۔گو پہلا فرض یہ ہے کہ سب مل کر آزادی حاصل کر لیں، آزادی حاصل ہونے تک تمام اختلافات کو دبائے رکھا جائے آزادی حاصل ہونے کے بعد مسلمانوں کے مشورہ اور ان کے مطالبات کو پیش نظر رکھ کر نظام حکومت تجویز کیا جائے گا اس پر بعض مسلمان رضا مند ہو گئے ہیں۔اس سوال کا ایک مذہبی پہلو بھی ہے۔یہ بات ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئے کہ آزاد حکومت محبت سے تو مل نہیں سکتی۔کسی سے یہ کہنا کہ اپنا بوریا باندھو اور یہاں سے اٹھا کر چلے جاؤ ایسی بات ہے جو بغیر لڑائی جھگڑے کے طے نہیں ہو سکتی اور قائم شدہ حکومت سے جنگ احمدی نقطہ نگاہ سے مذہب کے خلاف ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے ماتحت یہ طریق بہر حال نا جائز اور نا پسندیدہ ہے اور یہ خیال کہ انگریز اپنی مرضی سے چلے جائیں گے انسانی فطرت کی ہنسی اُڑانا ہے۔بادشاہت تو بڑی چیز ہے کوئی چپہ بھر زمین بھی بغیر لڑائی کے نہیں چھوڑتا۔پھر یہ خیال کہ اتنا بڑا ملک جو انگلستان سے ہمیں پچیس گنا بڑا ہے اور جس کی آبادی وہاں سے آٹھ نو گنا زیادہ ہے اور جس سے وہ اتنے عظیم الشان فوائد حاصل کر رہے ہیں ہمارے ریزولیوشنوں اور قرار دادوں سے ڈر کر انگریز چھوڑ جائیں گے احمقانہ خیال ہے۔ہندوستان چھوڑنے سے انگلستان کے وقار کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔اگر انگریزوں کو ہندوستان بالکل چھوڑنا پڑا تو وہ یقیناً جنگ کریں گے جیسا کہ امریکہ سے کی تھی۔لیکن اگر ہندوستان والے ایسی آزادی پر رضامند ہو جائیں جس میں انگلستان کا بھی تعلق ہندوستان سے قائم رہے تو اس سے چونکہ انگلستان کا وقار بھی قائم رہے گا اور اسے کوئی زیادہ نقصان بھی برداشت نہیں کرنا پڑے گا اس لئے اسے وہ منظور کر سکتا ہے۔اس وقت بھی بعض حکومتیں ایسی ہیں جنہیں انگلستان اس شرط پر آزادی دے چکا ہے کہ تم یہ اقرار کرو کہ ہمارا با دشاہ شاہ انگلستان ہے جیسے کینیڈا، ساؤتھ افریقہ اور آسٹریلیا ہیں لیکن کامل آزادی خونریزی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔پھر اگر جنگ ہوئی تو کسے فتح ہوگی اور کسے شکست یہ سوال مذہب سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ سیاسیات سے متعلق ہے۔مذہب جس بات کا حکم دے اس میں فتح یا شکست کو نہیں دیکھا