خطبات محمود (جلد 12) — Page 263
خطبات محمود ۲۶۳ سال ۱۹۳۰ء امر میں بے انصافی وغیرہ کے متعلق ہوں ایسے امور متعلقہ افسر کے ذریعہ آنے چاہئیں۔یا ایسا کام جس پر کوئی شخص مقرر ہے اس کے متعلق اگر کوئی رپورٹ کرتا ہے تو وہ افسر کے ذریعہ آنی چاہئے۔ہاں اگر اس امر کے متعلق مثلاً صیغہ دعوت وتبلیغ میں کوئی کام خراب ہو رہا ہے یا افسر کا رویہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا نہیں تو اس قسم کی باتیں براہِ راست لکھی جاسکتی ہیں۔اس طرح کوئی کارکن اپنے کام کے متعلق براہ راست مجھ سے پوچھ سکتا ہے اور اسی طرح پوچھ سکتا ہے جس طرح ناظر پوچھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ میرے مشورہ کو اپنے لئے آڑ نہ بنائے۔مثلاً اگر ایک ماسٹر میرے پاس آ کر کہے کہ فلاں انتظام جو میرے سپرد ہے وہ میں اس طرح کرنا چاہتا ہوں آپ کا اس کے متعلق کیا مشورہ ہے تو میں اسے مشورہ دوں گا مگر یہ نہیں کہ اگر ناظر اپنے قواعد کے ماتحت اس پر گرفت کرے تو وہ یہ کہ کر بری ہونا چاہے کہ خلیفہ اسیح نے اس طرح کہا تھا۔اگر وہ ایسا کرنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ اپنے کاغذات افسر کے ذریعہ میرے پاس بھیجے ورنہ میں اسے جو مشورہ دوں گا وہ ایسا ہی مشورہ ہو گا جیسا وہ اپنے کسی ذاتی کام مثلاً بیاہ شادی کے متعلق مجھ سے مشورہ لیتا ہے۔پس اگر کوئی افسر یا کارکن ایسے امور کے متعلق مجھ سے مشورہ لینا چاہے جو اس کے اختیار سے تعلق رکھتے ہیں تو میں مشورہ دوں گا مگر اس کا یہ حق نہ ہوگا کہ اگر افسر اس سے جواب طلبی کرے تو وہ کہہ دے کہ خلیفہ اسیح نے اس طرح کہا تھا۔اگر افسر اس کے فعل کو نا جائز قرار دے اور خلاف قاعدہ بتائے تو وہ یہ نہیں کہ سکتا کہ خلیفہ اسیح سے میں نے مشورہ لے لیا تھا۔کیونکہ جو مشورہ میں نے اسے دیا تھا وہ ذاتی مشورہ تھا اور اس کی ذمہ داری اس پر عائد ہوگی۔پس اس لحاظ سے اگر کوئی کارکن میرے پاس مشورہ کے لئے آئے تو خواہ وہ چپڑاسی ہو یا کلرک یا ناظر میں اسے مشورہ دوں گا مگر اس پر عمل کرنا اس کی اپنی ذمہ داری پر ہوگا۔مثلاً اگر کوئی طالب علم میرے پاس آئے اور آ کر کہے میری ماں بیمار ہے مجھے اس کے پاس جانا چاہئے یا نہیں تو میں کہوں گا ضرور جانا چاہئے لیکن وہ اپنے افسر سے رخصت لئے بغیر چلا جائے اور جب افسر اس پر سزا دے تو وہ حق بجانب ہوگا کیونکہ اس سے رخصت لینا ضروری تھا۔بعض لوگ ان تفصیلات کے نہ سمجھنے کی وجہ سے خیال کر لیتے ہیں کہ میرے اور ان کے درمیان اور لوگ واسطہ ہیں مگر یہ درست نہیں۔نظام کی پابندی کے لئے جو قواعد بنائے گئے ہیں ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے یہ پابندی مجھے