خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 262

خطبات محمود ۲۶۲ سال ۱۹۳۰ء بعض لوگوں کو یہ بھی دھوکا لگا ہے کہ وہ اگر کوئی بات مجھ تک پہنچانا چاہیں تو اسے نہیں پہنچا سکتے اور اس کے لئے انہیں موقع نہیں دیا جاتا۔یا درکھنا چاہئے ہر ایک احمدی ہر ایک بات جو مجھ تک پہنچانا چاہے پہنچا سکتا ہے سوائے اس بات کے کہ جو دفتری لحاظ سے اس کی ذات کے متعلق ہو۔مثلاً اگر کوئی یہ لکھے کہ میری ترقی روک دی گئی ہے یا مجھے فلاں حق نہیں دیا گیا تو اس قسم کی باتوں پر میں اُس وقت تک غور نہ کروں گا جب تک متعلقہ دفتر کے ذریعہ کا غذ نہ آئے۔لیکن اگر کوئی اس قسم کی بات ہو ( خدانخواستہ ) کہ دفتر میں فلاں خیانت کرتا ہے یا قومی کام کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس قسم کی شکایت کو میں سنوں گا کیونکہ قوم کے ہر ایک فرد کا خواہ وہ کلرک ہو یا چپڑاسی فرض ہے کہ قومی حقوق کی حفاظت کرے۔اسی طرح اگر کوئی یہ لکھنا چاہے کہ فلاں نظام میں تبدیلی ہونی چاہئے اور انتظام کی صورت یہ ہے تو بھی لکھ سکتا ہے خواہ لکھنے والا کوئی ہو۔کیونکہ اس کا خلافت سے براہِ راست ویسا ہی تعلق ہے جیسا ناظر اعلیٰ کا یا دوسرے ناظروں کا یا کلرکوں کا یا چپڑاسیوں کا یا جو کوئی بھی سلسلہ کا کام کرتا ہے محض ڈسپلن کے قیام کے لئے یہ رکھا گیا ہے کہ جو بات کسی کارکن کی ذات کے متعلق ہو وہ براہ راست میرے پاس نہیں آنی چاہئے اس کے لئے ضروری ہے کہ افسر کی رائے بھی ساتھ ہوتا کہ دونوں کی بات اکٹھی میرے سامنے آئے۔باقی سلسلہ کے نظام کے متعلق تجاویز پیش کرنے یا کسی فتنہ و فساد کے متعلق اطلاع دینے سے کسی نے کسی کو منع نہیں کیا اور نہ کوئی منع کر سکتا ہے۔جب تک خلافت قائم ہے ہر ایک احمدی کا براہِ راست خلیفہ کے ساتھ تعلق ہے جیسے خدا تعالیٰ سے ہر ایک انسان کا براہ راست تعلق ہے۔مگر دیکھو بعض معاملات میں اللہ تعالیٰ نے بھی حد بندی کر دی ہے۔مثلاً انسانوں کے آپس کے معاملات کے متعلق ہر ایک انسان کا خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہے لیکن معاملات میں بر او راست کوئی حکم جاری نہیں کر سکتا۔اگر ایک شخص دوسرے کو تھپڑ مارتا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔جزا و اسَنَةٍ سَنَةٌ مِّثْلُهَا مگر یہ اجازت نہیں دیتا کہ خود تھپڑ مار لیا جائے بلکہ قاضی کے توسط سے تھپڑ لگواتا ہے۔تو خدا تعالیٰ نے بھی بعض امور کے متعلق قیود لگائی ہیں مگر پھر یہ بھی کہتا ہے کہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں حتی کہ رسول بھی واسطہ نہیں۔خلفاء بھی دنیا میں خدا تعالیٰ کے قائمقام ہوتے ہیں اس لئے ان کے اور ان کے ماننے والوں کے درمیان بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا سوائے محکمانہ امور کے جو کسی کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں۔مثلا ترقی یا سزا یا کسی