خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 249

خطبات محمود (۳۴) سال ۱۹۳۰ء پوری ہمت اور سرگرمی سے دعوت الی اللہ کرو فرموده ۱۰۔جنوری ۱۹۳۰ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: بوجه بیماری میرا ارادہ تو نہیں تھا کہ جمعہ کے لئے آؤں لیکن اس وجہ سے کہ بعض دوست جمعہ کے لئے باہر سے آتے ہیں اور اس خواہش سے آتے ہیں کہ میرے پیچھے نماز جمعہ ادا کریں اس لئے میں نے آخر مناسب سمجھا کہ خواہ کتنا مختصر خطبہ ہی کیوں نہ ہو یا کتنی مشقت بھی کیوں نہ اُٹھانی پڑے میں خود ہی جمعہ پڑھاؤں۔میں نے پچھلے جمعہ میں یہ بات کہی تھی کہ میں ایک ایسے امر کے متعلق خطبہ پڑھنا چاہتا ہوں جو بعض لوگوں کے لئے ناپسندیدہ ہو گا لیکن میں چونکہ ابھی اپنی صحت کو اس قابل نہیں پاتا کہ کوئی لمبا خطبہ بیان کر سکوں اس لئے آج بھی اُس کی بجائے ایک دوسرے امر کے متعلق بیان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ امسال جلسہ سالانہ کے بعد جماعت میں ( قادیان کی جماعت کے متعلق ابھی میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن باہر کی جماعتوں میں ) میں نیک اور اچھا تغیر دیکھتا ہوں۔انسان کی باتیں جو وہ کرتا ہے اپنی ذات میں خواہ کتنی اعلیٰ کیوں نہ ہوں ضروری نہیں کہ لوگوں کے قلوب میں تغیر پیدا کر سکیں۔تقریریں خواہ کتنی لمبی اور دلآویز ہوں، ظاہر میں نظر آنے والے معارف خواہ کتنی کثرت سے ہوں ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی معارف ہوں اور لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ حاصل کر سکیں۔پس کسی تحریک کی کامیابی اس کے خوبصورتی سے بیان