خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 217

خطبات محمود ۲۱۷ سال ۱۹۲۹ء اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری جماعت میں تقویٰ کی یہ روح پائی جاتی ہے اور اس کے فضل سے امید ہے کہ وہ اسے اور بھی ترقی دے گا اور جن میں نہیں ان میں بھی پیدا کر دے گا۔تو یہاں کے دوست نہایت خلوص سے باہر کے مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں مگر پھر بھی ہزاروں کی مہمان نوازی آسان کام نہیں گو آدمیوں کی کمی سے جو نقص پیدا ہوتا ہے اسے اخلاص دور کر دیتا ہے۔انسان جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے ارادہ میں برکت ڈالتا ہے اور وہ ایسے کام کر جاتا ہے جو دوسروں کو ناممکن نظر آتے ہیں۔دوستوں کو چاہتے کہ وہ پہلے سے زیادہ اخلاص اور زیادہ تعداد میں اس کام کے لئے خود کو مسلمین جلسہ کے سپرد کریں۔ہر جماعت میں کچھ کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں اس لئے ان سے میں کہتا ہوں کہ اگر انہوں نے سستی یا کمزوری سے پچھلے سال اس کام میں حصہ نہیں لیا تو کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ وہ پہلے سے بڑھ کر اب اس میں حصہ لیں۔ان کی عمروں میں سے ایک سال اور کم ہو گیا ہے اور ان کا وہ وقت اور بھی قریب آ گیا ہے جب انہوں نے خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے اس لئے وہ کیوں نہ پچھلی کوتا ہی کا ازالہ کر دیں۔کیوں نہ اپنے رب سے نیا عہد کریں اور اس سے صلح کر لیں۔ان کے لئے روحانی ترقی کے دروازے بند نہیں۔روحانی ترقی کے خدا تعالیٰ نے دو رستے رکھے ہیں ایک دُور سے آتا ہے اور ایک قریب سے۔قریب کا رستہ خدا تعالیٰ نے اس لئے رکھا ہے کہ تا کوئی شخص کسی وقت بھی مایوس نہ ہو۔اگر صرف دور کا ہی راستہ ہوتا تو قریب المرگ یا بوڑھے اشخاص اسے طے نہ کر سکتے اس لئے اس نے ایک رستہ قریب کا بھی رکھا ہے اور وہ سوز و گداز کا رستہ ہے اس میں انسان منٹوں میں وہ مسافت طے کر جاتا ہے جو دوسرے سالوں میں کرتے ہیں۔ایک ساعت میں ایک انسان آتا ہے اور کئی ایک سے آگے نکل جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید کے متعلق فرمایا آپ پیچھے آئے لیکن اس اخلاص سے آئے کہ بہتوں سے آگے نکل گئے۔پس سوز و گداز کا رستہ جلدی طے ہو جاتا ہے اس لئے جنہوں نے پچھلے سال کو تا ہی کی اگر اب بھی آگے آ جائیں تو دوسروں کے برابر ہو سکتے ہیں بلکہ اگر چاہیں تو آگے بھی بڑھ سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ترقی کا دروازہ ان کے لئے بند نہیں کیا اور اگر وہ خود بند کریں گے تو اس کی ذمہ داری انہی پر ہوگی۔کام کی زیادتی کی وجہ سے قادیان کے رہنے والوں کی تعداد انتظام کیلئے کافی نہیں ہو سکتی اس لئے باہر