خطبات محمود (جلد 12) — Page 176
خطبات محمود 144 (۲۴ سال ۱۹۲۹ء جو کام شروع ہو چکا ہے اسے مردانہ وار انجام کو پہنچاؤ ( فرموده ۴۔اکتوبر ۱۹۲۹ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جو واقعات دنیا میں انسان کے اپنے ارادہ یا بغیر ارادہ کے ظاہر ہوتے ہیں وہ سب کے سب اپنے اندر ایک اخفاء کا پہلو ر کھتے ہیں ہم انکے اختتام تک پہنچنے سے پہلے یا ان کا انجام ظاہر ہونے سے قبل یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ ہمارے لئے خیر کا موجب ہوں گے یا شر کا۔بسا اوقات ایک چیز ہماری خواہشات اور امنگوں کو برانگیختہ کر دیتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ چیز ہمیں نہ ملی تو نہ معلوم کتنا بڑا نقصان ہو گا لیکن جب وہ ملتی ہے تو بجائے اس کے کہ ہمارے لئے راحت چین یا سکھ کا موجب ہو وہ دکھ اور تکلیف کا موجب ہو جاتی ہے۔اسی طرح بسا اوقات ایک چیز جو ملی ہوتی ہے جب کھوئی جاتی ہے تو خیال ہوتا ہے نہ معلوم اس کے کھوئے جانے سے ہمیں کیا کیا نقصان برداشت کرنے پڑیں گے لیکن اس کے کھوئے جانے کے اندر ایسی ایسی برکتیں اور رحمتیں ہوتی ہیں جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔پس جب تک کوئی چیز اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتی وثوق یا یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے لئے وہ نقصان کا موجب ہوگی یا فائدہ کا۔میری عدم موجودگی میں یہاں ایک مدیح خانہ کھلا تھا جو میری عدم موجودگی میں ہی گرا بھی دیا گیا۔میری عدم موجودگی میں ہی یہاں برطانوی حکومت کے زیر حفاظت گائے ذبح کرنے کا کام شروع بھی ہوا اور میری عدم موجودگی میں ہی بند بھی ہو گیا۔گائے کے ذبح کرنے کے سوال کے متعلق ہماری جماعت کے دوست اور دوسرے لوگ بھی قادیان میں بھی اور باہر بھی اس امر