خطبات محمود (جلد 12) — Page 174
خطبات محمود ۱۷۴ سال ۱۹۲۹ء ہیں۔انکی بہت ساری کتابیں ہمارے پاس ہیں اور کتاب اقدس کا خلاصہ تو یہاں بھی میرے پاس ہے جس کا اصل سے مقابلہ کر لیا گیا ہے۔پس احمدیت اور بہائیت کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ہم ان کو یہاں بھی شکست دے سکتے ہیں اور وہاں ان کے ملک میں بھی اور خدا تعالیٰ نے چاہا تو تھوڑے دنوں میں ایران میں بھی ان کو شکست ہوگی جو ان کا مولد ہے۔تفصیلات میں پڑنے کا یہ موقع نہیں اس لئے جو کچھ ان کی کتابوں میں درج ہے اس میں سے اس وقت بہت کم بتایا جا سکا ہے۔مفصل اصل کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔بہاء اللہ نے اپنی کتاب اقتدار صفحہ ۱۳۰ میں لکھا ہے۔وَنَفْسِي عِنْدِي عِلْمٌ مَا كَانَ وَمَا يَكونُ سے مجھے اپنی ذات کی قسم ہے کہ مجھے گذشتہ اور آئندہ سب کا علم ہے۔لیکن ایک دوسری جگہ خود ہی لکھتے ہیں۔فلاں شخص نے ہمارے خلاف کتاب لکھی ہے لیکن وہ کتاب چونکہ ملی نہیں اس لئے ہم اس کا جواب نہیں دے سکے حالانکہ جب انہیں آئندہ کا بھی علم تھا تو چاہئے تھا کتاب لکھی جانے سے بھی پہلے اس کے متعلق انہیں پورا پورا علم ہو جا تا کجا یہ کہ کتاب کے شائع ہو جانے پر بھی نہ ہوا۔باقی ان کے اخلاق کی حالت یہ ہے کہ خود بہاء اللہ اور ان کا خلیفہ جو عبد البہاء بتایا جاتا ہے وہ صبح ازل کو سخت گالیاں دیتے رہے ہیں اور اس کا نام ہی شیطان رکھ دیا تھا حالانکہ صبح ازل وہ ہے جسے باب نے اپنا خلیفہ بنایا تھا۔بہاء اللہ صبح ازل کے سیکرٹری تھے۔وہ صبح ازل کا نام نہیں لیتے بلکہ شیطان کہتے ہیں یہ اگر گالی نہیں تو نہ معلوم اگر گالیوں پر اتر آتے تو کیا کرتے۔ہمارے بہت بڑے دشمنوں میں سے ایک مولوی ثناء اللہ صاحب ہیں مگر ہم عام طور پر انہیں مولوی ثناء اللہ صاحب ہی کہتے ہیں۔لیکن وہ صبح ازل کو جو باب کا خلیفہ اور خود ان کا مقرر کیا ہوا تھا شیطان کے نام سے پکارتے ہیں اور کہتے ہیں انہیں اس لئے خلیفہ مقرر کیا گیا تھا تا کہ دشمنوں کو دھوکا لگے اووہ بہاء اللہ کو نہ پکڑ سکیں ورنہ باب کے اصل قائمقام بہاء اللہ ہی تھے۔خواہ کچھ ہو بہر حال صبح ازل باب کا قائمقام تھا مگر اس کا نام شیطان لعین کے سوا نہیں لیا جاتا۔غرض ان کے متعلق اس قسم کی باتیں تحقیق سے معلوم ہو سکتی ہیں۔یہاں بھی ہمارے پاس ان کا کچھ لٹریچر ہے۔مؤمن کا کام ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے سے قبل تحقیق کرے اور پھر نتیجہ پر پہنچے سنی سنائی باتوں پر یقین کر لینا دیانت داری کے خلاف ہے۔باقی رہا مباہلہ۔سو اگر کسی میں جرات ہے تو اتنا ہی شائع کر دے کہ مرزا صاحب کی