خطبات محمود (جلد 12) — Page 154
خطبات محمود ۱۵۴ سال ۱۹۲۹ رزق کس طرح حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح کئی باتیں حدیثوں میں پائی جاتی ہے جن پر پہلے اعتراض کئے جاتے تھے مگر اب ان کی صداقت ثابت ہو چکی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل اپنا یا اپنے کسی دوست کا ذکر سناتے کہ انہیں گاڑی میں ایک شخص ملا جس نے مولویوں سے سخت نفرت کا اظہار کیا۔اس کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے سنایا کہ مجھے ایک مولوی نے تباہ کر دیا تھا۔اس نے اپنے وعظ میں بیان کیا۔حدیث میں آتا ہے چاند میں ایک پہاڑ ہے جس سے دریائے نیل نکلتا ہے میں نے چونکہ علیم جغرافیہ پڑھا ہوا تھا اس لئے میں یہ سن کر حیران رہ گیا اور میں نے خیال کر لیا جس مذہب میں ایسی دور از علم و عقل باتیں پائی جاتی ہیں وہ ماننے کے قابل نہیں ہے اور میں اسلام چھوڑ کر عیسائی ہو گیا۔پھر مجھے ایک پادری کے ذریعہ معلوم ہوا کہ عیسائی مشنریوں کی کوشش سے دریائے نیل کا منبع معلوم ہو گیا ہے اور وہ ایک پہاڑ ہے جس کا نام جبل القمر ہے۔اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی اور مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو اسلام کی صداقت کا ایک ثبوت تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سو سال پہلے وہ بات بیان فرما دی تھی جو عیسائیوں نے اب دریافت کی ہے اس کے بعد میں نے عہد کر لیا کہ کبھی کسی مولوی کی بات نہ سنوں گا۔غرض ہر چیز جو انسان دیکھتا ہے خواہ پہاڑ ہو یا دریا یا کچھ اور اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اسلام کی صداقت کا ثبوت نکال سکتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو اندھے ہوں اور جنہیں روحانی روشنی حاصل نہ ہو۔لیکن ہماری جماعت کے لئے خدا تعالیٰ نے بہت سے نشان پیدا کر دیئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں کھول دیا ہے کہ کس طرح قرآن کریم کے علوم کی صداقت سائنس سے ثابت ہو سکتی ہے۔آپ نے فرمایا سائنس قرآن کریم کے خلاف چل ہی نہیں سکتی کیونکہ قرآن خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سائنس خدا تعالیٰ کا فعل اور اس کے قول کے خلاف اس کا کوئی فعل نہیں ہو سکتا۔ان اصول کے ذریعہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائے ہیں قرآن اور حدیث کے مطالب حل کرنا ایک کھلی بات ہوگئی ہے اور ہمارے دوستوں کیلئے ضروری ہے کہ قرآن اور حدیث پر تدبر کریں۔خصوصا نو جوانوں کو بہت زیادہ توجہ کرنی چاہئے کیونکہ ہر ایک قوم نو جوانوں کی کوششوں سے ترقی کرتی ہے۔جس قوم کے لوگ پچھلوں کے جمع کئے ہوئے