خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 153

۱۵۳ سال ۱۹۲۹ء گرمی جو زمین کے اندر تھی اور جو ہر چیز کو ٹھکس دینے والی تھی اس کے پھوٹ کر زمین سے نکلنے کی وجہ سے پہاڑ بنے اور اس طرح زمین کو سکون حاصل ہوا اور مخلوق کی رہائش کے قابل بن سکی۔تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا کہ پہاڑوں کے ذریعہ ساری دنیا کو ہلاکت میں ڈالنے والے زلزلے دور ہوئے اور قابل رہائش سکون پیدا ہوا۔اب یہ بات علم طبقات الارض سے اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے۔پہلے بطور اعتراض کہا جاتا تھا کہ قرآن کی رو سے زمین اس طرح پہاڑوں کے کھونٹوں سے باندھ دی گئی ہے جس طرح گھوڑے کو باندھا جاتا ہے مگر اب دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ واقعی پہاڑوں کے ساتھ کھونٹوں کی طرح ہی زمین بندھی ہوئی ہے۔دوسری بات اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ مخلوق کے زندہ رہنے کا سامان پہاڑوں کے ذریعہ قائم ہے یعنی رزق پہاڑوں کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔اس بات کو پہلے لوگ نہ سمجھے تھے کہ کس طرح رزق کا تعلق پہاڑوں سے ہے۔اب جب کہ ابر یکیشن (IRRIGATION) کے سامان نکل آئے ہیں اور پہاڑوں کے متعلق تحقیقات کی گئی ہے تو معلوم ہو گیا ہے کہ پہاڑوں میں جو برف پڑی ہوتی ہے وہ پچھلتی ہے اور اس طرح ندی نالے بن کر میدانوں کو سیراب کرتے ہیں اور کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں اس طرح پہاڑ لوگوں کے رزق کا باعث ہیں۔جب تک ہندوستان میں نہریں نہ تھیں بڑے بڑے خطرناک قحط پڑتے تھے اور ہزاروں لوگ ہلاک ہو جاتے تھے لیکن جب سے نہریں بن گئی ہیں ایسا نہیں ہوتا۔مگر دریاؤں کے بغیر نہریں نہیں بن سکتیں اور دریا بغیر پہاڑوں کے نہیں ہو سکتے اور پہاڑوں سے بغیر برف کے دریا نہیں نکل سکتے کیونکہ پہاڑوں کے اندر سے اتنا پانی نہیں نکلتا کہ دریا بن جائے بلکہ ان پر برف پڑی رہتی ہے۔پہاڑوں کی بلند چوٹیوں کی فضاء چونکہ سرد ہوتی ہے اس لئے وہاں برف جلدی پڑ جاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ کھلتی رہتی ہے اور اس پانی سے دریا بن کر میدانی علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔جن سے نہریں نکال کر ملک کو سیراب کیا جاتا ہے۔اگر ضرورت کے لحاظ سے پانی بارش سے ہی اتر تا تو دنیا تباہ ہو جاتی۔بارشوں کے ایام میں اتنا پانی برستا کہ تباہ کن سیلا ب آ جاتا اور گرمی کے موسم میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہ ملتا۔مگر پہاڑوں کے ذریعہ پانی محفوظ رکھا جاتا ہے کیونکہ ان پر برف پڑتی ہے جو جمع رہتی ہے اور پھر پچھلتی رہتی ہے اس طرح پانی ملتا ہے اور دنیا کے قیام کا باعث بنتا ہے۔مگر ایک وقت تھا جب لوگ اس بات پر ہنستے تھے کہ پہاڑوں کے ذریعہ