خطبات محمود (جلد 12) — Page 130
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء ایمانداروں کو مخاطب کر کے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔نَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ! کہ اے لوگو! اللہ اور رسول کی بات مانو وہ تمہیں زندہ کرنے کیلئے بلاتا ہے۔ہمارے زمانہ میں بھی ایک شخص نے دعوی کیا کہ میں بھی دنیا کو زندہ کرنے آیا ہوں۔خدا کے کلام کو سمجھانا معارف و حقائق بتانا لوگوں کو روحانی طور پر زندہ کرنا نمونہ بنا یہ وہ کام ہیں جو خدا کے برگزیدہ دنیا میں مبعوث ہو کر کرتے ہیں۔ان کے ذریعہ جو زندگی حاصل ہوتی ہے اس سے قطعا یہ مراد نہیں کہ نبی جسمانی مردوں کو زندہ کرتا ہے بلکہ عملی زندگی اور اخلاقی زندگی ہے۔انبیاء کی جماعتوں میں اور دوسرے لوگوں میں کھانے پینے پہننے ظاہری زندگی میں فرق نہیں ہوتا بلکہ یہی فرق ہوتا ہے کہ ان کی عملی، اخلاقی حالت نہایت اعلیٰ ہوتی ہے۔وہ لوگوں کیلئے نمونہ ہوتے ہیں اگر نبی کی جماعت میں کسی داخل ہونے والے کے اندر یہ بات پیدا نہ ہو تو وہ سمجھے اس کے اندروہ غرض و غایت جس کے لئے نبی مبعوث ہوتے ہیں پیدا نہیں ہوئی اور جب تک کسی قوم میں یہ باتیں پیدا نہ ہوں وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ہمیشہ ماً مور خدا سے یہ وعدہ لے کر آتے ہیں کہ جو قوم ان کے ساتھ شامل ہوگی اسے وہ کامیابی تک پہنچا دیں گے اور باقی لوگ ذلیل ہو جائیں گے۔ان کے ساتھ شامل ہونے والے ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ یقین رکھتے ہیں ان کی قربانیاں ضائع نہیں ہونگی جیسے زمیندار زیادہ سے زیادہ غلہ ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مجھے اس کا فائدہ ہوگا اسی طرح مؤمن بھی قربانی کرنے سے ڈرتا نہیں۔وہ جانتا ہے اگر آج اس کا فائدہ ظاہر بین لوگوں کو نظر نہیں آتا تو جلد ہی وہ اس زمانہ کو پالیں گے جس میں اس کے فوائد مشاہدہ کر لیں گے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں لوگ زمین خرید کر آئندہ نسلوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اسی طرح مؤمن کی قربانی بھی آئندہ نسلوں کیلئے مفید ثابت ہوتی ہے۔میں نے ایران کے بادشاہ کا قصہ کئی دفعہ سنایا ہے وہ اپنے وزیر کے ساتھ ایک کسان کے پاس سے گزرا جو ایک ایسا درخت لگا رہا تھا جس کے پھل کو وہ خود نہیں کھا سکتا تھا بلکہ اس کی نسل فائدہ حاصل کر سکتی تھی۔بادشاہ نے کہا۔میاں کسان ! تم کو اس کے لگانے سے کیا فائدہ؟ اس نے جواب دیا بادشاہ سلامت ! پہلوں نے یہ پیٹر لگائے تو ہم نے پھل کھائے اب ہم لگائیں گے تو ہمارے بعد آنے والے کھائیں گے۔بادشاہ کا دستور تھا جب