خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 113

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء رہا تھا اور ساتھ روتا بھی جاتا تھا کہ میری تو بہ اب بھی قبول نہ ہوئی۔پھر جب حضرت عمر کا وقت آب تو اس نے پھر مال جمع کیا اور حضرت عمرؓ کے دروازہ پر حاضر ہو کر کہلا بھیجا کہ فلاں شخص زکوۃ لے کر آیا ہے آپ نے جواب دیا جس زکوۃ کو خدا کے رسول اور اس کے خلیفہ نے قبول نہیں کیا اسے عمر کیسے لے سکتا ہے۔پھر وہ مال لے کر گھر چلا گیا اور رنج سے روتا گیا۔سے لیکن اس کا کوئی فائدہ اُسے نہ ہوا تو یہ بھی ایک سزا تھی۔جسمانی طور پر تو اسے انعام سمجھا جائے گا لیکن روحانی سلسلہ میں سخت سزا ہے۔گورنمنٹ اگر کسی کو ٹیکس معاف کر دے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے کہ انعام مل گیا۔مگر جس کے دل میں ایمان ہوا سے اگر خدمت دین یا قربانی سے روک دیا جائے تو یہ بہت بڑی سزا ہے۔یہی شخص چاہتا تھا کہ اس سے مال لے لیا جائے اور کوئی اور سزا دیدی جائے لیکن خدا کے رسول نے اسے منظور نہ کیا اور وہ شخص عمر بھر اضطراب میں مبتلا ء رہا۔قرآن کریم میں ایک اور سزا کا بھی ذکر ہے۔کچھ لوگ رسول کریم ﷺ کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہوئے ان کو یہ سزا دی گئی کہ آئندہ انہیں کسی جنگ میں شامل نہ ہونے دیا جائے ہے اب دنیاوی نقطہ نگاہ سے تو یہ بہت اچھی بات تھی۔کون شخص جان دینا پسند کرتا ہے لیکن ان کیلئے یہ بہت سخت سزا تھی۔شریعت دین کی راہ میں جان دینے کو انعام قرار دیتی ہے جس سے وہ محروم کر دیئے گئے تھے اور اس طرح وہ ایک عظیم الشان انعام سے محروم ہو گئے۔جہاں دین اور خدا کا تعلق ہو وہاں قربانی سزا نہیں بلکہ انعام ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم کے لئے بیٹے کو ذبح کرنا سزا نہ تھی بلکہ ایک عظیم الشان انعام تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا جس طرح آسمان کے ستارے نہیں گئے جا سکتے اسی طرح تیری اولاد بھی نہیں گئی جاسکے گی۔تو دینی سلسلوں میں مار پیٹ کوئی سزا نہیں یہ تو محض دوسروں کو تنبیہہ ہوتی ہے۔جن کے اندر ایمان ہوان کے لئے یہ سزا کافی ہے کہ جاؤ تمہیں آئندہ قربانی کا موقع نہیں دیں گے۔ایک صحابی ایک جنگ میں شامل نہ ہوئے رسول کریم ﷺ نے انہیں یہ سزا دی کہ کوئی شخص ان سے بات نہ کرے اب بظاہر یہ سزا نہیں۔دنیا میں اور بہت بڑے بڑے لوگ موجود تھے جو اُن کی عزت کے لئے تیار تھے۔غستان کے بادشاہ نے انہیں خط لکھا تم ہمارے پاس آ جاؤ ہم تمہاری بہت عزت کریں گے۔وہ صحابی بیان کرتے ہیں میں نے دل میں کہا یہ شیطان کا حملہ ہے۔میں نے سفیر کو اپنے ساتھ لیا اور بادشاہ کا خط ایک جلتے ہوئے تنور میں ڈال کر کہا اس کا یہ جواب ہے۔آخر خدا تعالیٰ کے حضور ان کی