خطبات محمود (جلد 12) — Page 102
خطبات محمود ١٠٢ سال ۱۹۲۹ء وہ زیادہ کوشش کریں میں رد نہیں کر سکتا۔بجٹ کا سال ۳۰۔اپریل کو پورا ہوگا اور یکم مئی سے جور قوم آئیں گی وہ نئے سال میں محسوب ہونگی۔لیکن میں اس کے سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر ہمارے دوست بقائے اپریل میں ادا نہیں کر سکے اور مئی کے کچھ دن لینے ان کے لئے ضروری ہیں تو سال ختم کرنے سے کونسی روک ان کے راستہ میں حائل ہو جائے گی کہ مئی کے ابتدائی ایام میں وہ اپنے بقائے پورے نہ کر سکیں۔اللہ تعالیٰ کے سامنے یکم مئی سے ۳۰۔اپریل تک کا بل نہیں پیش ہو گا۔ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہی کام کرتے ہیں کسی پر زبردستی نہیں کر سکتے۔جو شخص دین کے کام میں حصہ لیتا ہے وہ اسی خیال سے لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے اور وفات کے بعد وہ ایسے راستہ پر چل سکے جو اسے خدا تعالیٰ کے قریب کر دے۔یہ خواہش اور تڑپ ہے جو دین کے لئے قربانی پر مجبور کر سکتی ہے اسے نکال دو تو نہ ہمارے پاس کوئی حکومت ہے نہ طاقت اور نہ رُعب جس سے ہم کسی سے کچھ لے سکیں۔گورنمنٹ تو پوں، بندوقوں، فوجوں، قوانین اور جیل خانوں کے ذریعہ ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن ہمارے پاس دباؤ کے یہ سامان نہیں مگر کوئی شخص ہماری آواز کو سنتا ہے اور سلسلہ کی خدمت کی طرف توجہ کرتا ہے تو وہ در حقیقت اسی حالت میں سنتا ہے کہ جب اس کے اپنے دل سے بھی ایسی ہی آواز اُٹھ رہی ہوتی ہے۔اگر اس کے اپنے دل سے ایسی آواز نہیں اُٹھتی تو ہمارا کہنا اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتا۔اس میں کیا شبہ ہے کہ ہم دنیا میں کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور مؤمن کا تو کوئی بھی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔لیکن بعض کمزور ایمان والوں کا دنیا میں ایک گروہ ایسا بھی ہوتا ہے جو طاقت کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے اس کے نزدیک دنیا کا تمام کارخانہ اسی شخص کے گرد چکر لگاتا ہے جو کسی کا کچھ کر سکے یعنی بگاڑ سکے۔پس ایسے لوگوں پر جو طاقت اور قوت کو ہی مانتے ہیں ہماری آواز کچھ اثر نہیں رکھتی۔ہم قبول کرتے ہیں کہ ہم کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے لیکن جو لوگ خدا تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں اور جن کے سارے کام اس کو راضی کرنے کے لئے ہوتے ہیں ان کیلئے نہ اپریل کچھ ہستی رکھتا ہے نہ مئی۔ان کے لئے سب کچھ خدا ہی ہے اور وہ اسی کی پرواہ کرتے ہیں۔جذبات سے تعلق رکھنے والے یعنی SENTIMENTAL لوگوں کے جذبات کا خیال رکھنا ایک حد تک بے شک ضروری ہوتا ہے۔دس دن اور زیادہ کر دیے جائیں تو ممکن ہے ایسے لوگ اور زیادہ کوشش کریں اور ایسا کرنا مالی لحاظ سے بے شک فائدہ مند ہوسکتا ہے لیکن اخلاقی لحاظ سے اس