خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 75

خطبات محمود ۷۵ سال 1927ء بہت جلدی معلوم ہو جائے کہ جو کچھ اس نے سوچاہے وہ کارگر نہیں ہو سکتا۔مسلمان ہندوؤں کے برابر نہیں۔ان میں علم دولت مال، استقلال تعداد ان سے بہت کم ہے۔اور اگر اس کمی کے باوجود بھی وہ ان کے مقابلہ کے لئے متحد نہ ہو سکیں تو سخت افسوس کا مقام ہو گا۔ہندوؤں کو دیکھو کہ وہ ہر ایک طرح مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔علم ان میں زیادہ تعداد ان کی زیادہ ہے مال ان کے پاس زیادہ ہے۔مگر باوجود اس کے وہ اپنے تمام اختلافات کو چھوڑ کر مسلمانوں کے برخلاف اسی ایک مقصد کے لئے متحد ہو گئے ہیں کہ یا تو مسلمانوں کو ہندو بنالو یا ملک سے نکال دو۔پس اگر خود دل میں درد نہیں پیدا ہوا تو ہندوؤں کے اس عزم کو دیکھ کرہی مسلمان اپنے اختلافات کو چھوڑ کر ان کے مقابلے کے لئے متحد ہو جائیں۔تو جو خطرہ اس وقت پیدا ہو رہا ہے وہ نہ رہے۔میں پھر اس بات کو ظاہر کرتا ہوں کہ یہ تین مطالبے کوئی بڑے مطالبے نہیں کہ انہیں پورا کرنا مشکل ہو۔دشمن کے فریب سے یا اپنے نادان ہم مذہبوں کی بات سے کبھی دھوکا نہیں کھانا چاہئے اس سے بہت سخت نقصان ہوتا ہے۔پچھلے دنوں میں مسیحیوں نے افریقہ میں ایک خاص چال چلی تھی۔وہی حال ہندوستان میں نہیں ہونا چاہئے۔انہوں نے زور دے کر تمام رؤساء کو مسیحی بنالیا تھا۔حتی کہ ایک رئیس مسلمان ہو گیا تو قسم قسم کے الزام لگا کر اسے ہٹا دیا گیا۔اور اس کی جگہ اس کا ایک رشتہ دار جو مسیحی تھار کیس بنا دیا گیا۔لیکن چونکہ انہیں خوف تھا کہ مسلمانوں کو اگر علم ہو گیا کہ اس کی طرح مسیحیت کی تبلیغ ہو رہی ہے تو وہ شور مچادیں گے۔انہوں نے ایک چال چلی اور وہ یہ کہ تمام دنیا میں شور مچادیا کہ افریقہ مسلمان ہو رہا ہے۔اس کی مسیحیوں کو فکر کرنی چاہئے۔حالانکہ یوگنڈا اور کینیا کے پادری اس شور کے موجب تھے۔اور ان علاقوں کے باشندے ہرگز مسلمان نہیں ہو رہے تھے۔الا ما شاء اللہ۔اس شور کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک تو مسیحی ممالک سے پادریوں کو مدد مل گئی۔اور دوسرے مسلمان جن کا حق تھا کہ اس وقت توجہ کرتے اس خوشی میں کہ افریقہ مسلمان ہو رہا ہے مطمئن ہو کر گئے اور جو کام کا وقت تھا اس وقت کچھ نہ کیا۔اور آخر سب ملک مسیحی ہو گیا۔انہوں نے مسلمانوں کو دھوکا دیا اور دھوکا سے خوش کر کے اپنا کام کر لیا۔اسی طرح ہندوستان میں خوف ہے یہ سن کر کہ فلاں مسلمان ہوا اور اس اس طرح ہندوؤں کا مقابلہ کیا گیا یا اتنے ہندو مسلمان ہو گئے لوگ مطمئن نہ ہو جائیں اور کام نہ چھوڑ دیں یا کام کرنے کا خیال ہی نہ کریں۔پس اگر ہو شیاری سے کام نہ لیا گیا۔تو لاکھوں نہیں کروڑوں مسلمان ہندو ہو جائیں گے اور ایسی خاموشی کے ساتھ ہندو ہو جائیں گے کہ شاید ہم کو ان کے ہندو ہونے کی خبر بھی نہ ہو سکے۔علاوہ اس کے ہمیں ہندوؤں کی اور