خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 542

خطبات محمود ۵۴۲ سال 1927ء ہے) اء خطبہ جمعہ (۲۶ دسمبر ۱۹۱۹ مسجد نور قادیان) نوٹ : ( یہ خطبہ بوجوہ جلد ششم میں شامل نہیں ہو سکا۔بطور ضمیمہ اس جلد میں شائع کیا جا رہا الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) (الفاتح ۲ تا ( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الوريد (ق:12) جلسہ سالانہ پر آنے والے احباب کا خیر مقدم اور خدا کا شکر اللہ تعالی کا فضل اور احسان ہے کہ اس کے مامور اور اس کے مرسل کی قائم کردہ سنت کے ماتحت پھر اس وقت ہماری جماعت کے احباب چاروں طرف سے قادیان میں جمع ہوئے ہیں۔در حقیقت لوگوں میں اخلاص کی روح پھونکنا کسی انسان کی طاقت میں نہیں اور اخلاص کی روح اگر کوئی ہستی پھونک سکتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔سب سے بڑے اور اعلیٰ انسان رسول کریم ﷺ ہوئے ہیں۔مگر آپ کو بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لُو انْفَقْتَ مَا فِي الاَرضِ جَمِيعًا مَا الغَتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ - (الانفال: (۱۴) اگر سب کچھ جو دنیا میں پایا جاتا ہے وہ تمام کا تمام بھی تم خرچ کر دیتے تو ان انسانوں کے اندر وہ محبت اور خلوص پیدا نہیں کر سکتے تھے جو خدا نے پیدا کیا۔