خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 540

۵۴۰ سال ۱۹۲۸ء ریلوے والوں نے ہمارے پاس بھیج دیا ہے اس لئے ریل کی وجہ سے جو آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔پہلے جو لوگ بوڑھے تھے یا وہ غیر احمدی جن کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی تھی تکلیف کے خیال سے نہیں آتے تھے لیکن اب آسانی ہو گئی ہے اور خرچ میں بھی کفایت ہو گئی پہلے جہاں ایک روپیہ کرایہ دینا پڑتا تھا۔اس سال زیادہ سے زیادہ چار آنے خرچ ہوں گے گویا آنے جانے میں ڈیڑھ روپیہ کی بچت ہو جائے گی۔تو اس سال سفر میں سہولت اور اخراجات میں کمی کے باعث اور بھی زیادہ تحریک کرنی چاہئے کہ لوگ جلسہ میں شامل ہوں۔ممکن ہے کہ اس سال جو غیر احمدی اصحاب آئیں انہیں پہلے سالوں کی طرح سہولت نہ پہنچ سکے اس لئے ایسے لوگوں کو جو دوست ساتھ لائیں وہ خود ان کا ہر طرح خیال رکھیں۔کارکن بھی خیال رکھیں گے مگر انہیں خود زیادہ خیال رکھنا چاہئے اور اگر کوئی کوتاہی ہو جائے تو سمجھایا جائے کہ ایسے مجمع میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ایک برات کے کھانے کا انتظام مشکل ہوتا ہے اور یہاں تو اس قدر ہجوم ہوتا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کوئی معقول آدمی اس بات کو نہ سمجھ سکے۔پس ساتھ لانے والے خود خیال رکھیں اور سب سے زیادہ یہ ہے کہ خاص دعائیں کی جائیں۔یہ آیات کے دن ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے نشان کے دن ہوتے ہیں اس لئے دعاؤں پر بہت زور دینا چاہئے۔بعض اوقات ذرا سا نقص تمام کام کو تہ و بالا کر دیتا ہے۔اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ تمام کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتا ہیں۔جو لوگ نرم بستروں پر بھی کروٹیں بدلتے رہتے ہیں وہ یہاں آکر کسیر پر سوتے ہیں اور پھر سردی کے دنوں میں سارا سارا دن بیٹھ کر تقریریں سننا اور پھر ملاقات کے لئے گیارہ بارہ بجے رات تک بیٹھے رہنا اور پھر بعض اوقات بھی موقع نہ مل سکنا اور پھر ان کا علی الصباح آجانا یہ سب اتنی کوفت ہے کہ بیماری کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔کل ہی سردی میں درس دینے کے لئے کھڑے رہنے کی وجہ سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک میری پہلی میں درد رہا۔جہاں ایسے اجتماع ہوں وہاں کئی لوگ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں حالانکہ وہاں اتنا بوجھ نہیں پڑتا۔ہندوؤں کا میلہ ہوتا ہے غوطہ لگایا اور باہر آگئے۔عرسوں پر بھی قوالی ہی سننا ہوتا ہے۔مگر یہاں تو ایسی حالت ہوتی ہے کہ جیسے کسی کو پکڑ کر بیمار کرنے کی کوشش کی جائے۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی کم بیماری ہوتی ہے کہ انسانی بیان اس کی حقیقت کو کھول نہیں سکتا۔پس خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ اس کا یہ فضل اور بھی زیادہ ہو اور اس میں رکاوٹ پیش نہ آئے۔بلکہ یہ ہمیشہ بڑھتا چلا جائے کیونکہ اس کے اس پر فضل