خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 41

سال 1927ء خطبات محمود وقت تلوار لئے پھرتے۔کہ جہاں پائیں محمد رسول اللہ اس کو قتل کر دیں۔پھر جب موافقت پیدا ہوئی تو اتنی کہ محمد رسول اللہ اللہ کے دشمنوں کے مقابل میں تلوار لیکر کھڑے رہتے۔اور یہ حالت اس طرح پیدا ہوئی کہ ایک دن انہوں نے قرآن کی بعض آیتیں اپنی ہمشیرہ کے منہ سے سنیں۔ان چند آیتوں کا یہ اثر ہوا کہ قتل کرنے نکلے تھے۔مقتول ہو کر گر پڑے۔اور وہ تلوار جو رسول اللہ ﷺ کی گردن پر چلنے کے لئے ہر وقت میان سے باہر نکلی رہتی تھی ہمیشہ کے لئے خدا کے دین کے اعلاء کے لئے ننگی رہی۔یہ بالکل مختصر بات تھی جو حضرت عمر نے سنی۔لیکن اس کا نتیجہ نہ صرف ان کے لئے بلکہ ساری دنیا کے لئے کس قدر عظیم الشان نکلا پس چاہئے کہ خدا تعالی کا کلام سنتے وقت دل کو اسے قبول کرنے کے لئے ہر طرح تیار کیا جائے۔سورہ فاتحہ جو سارے قرآن کا خلاصہ ہے اور جس میں ساری خوبیاں جمع ہیں اپنے اندر بہت سے فائدے رکھتی ہے۔اس میں بعض باریکیاں ہیں۔اور ہر ایک کی سمجھ ایسی نہیں ہوتی کہ ان باریکیوں کو سمجھ سکے۔اس لئے ایک نکتہ بیان کرتا ہوں جس سے معلوم ہو گا کہ سورہ فاتحہ ایک ایسی سورۃ ہے کہ علاوہ اس اہمیت کے کہ یہ جامع ہے۔اور اس کے اندر انسان کو دعائیں سکھائی گئی ہیں۔یہ اہمیت بھی رکھتی ہے کہ قرآن کی دوسری سورتوں کے بالمقابل یہ ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔اگر غور کیا جائے تو کم از کم ایک انسان چالیس دفعہ ضرور ہر روز اسے پڑھتا ہے۔پھر نماز کے علاوہ بھی اسے پڑھتے ہیں۔اور میں خیال کرتا ہوں کہ ایک سو بار سے زیادہ دفعہ یہ دعا روزانہ پڑھی جاتی ہے۔اس میں دعا سکھائی گئی ہے۔جس کے متعلق ہمیں سوچنا چاہیے۔کہ جو دعا اس کثرت سے پڑھی جاتی ہے اس کا کوئی اثر بھی ہے یا نہیں اور اس کے مطابق ہماری حالت ہے یا نہیں۔اس میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضالین کی دعا سکھائی گئی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا ہمیں سیدھا راستہ دکھا - وہ سیدھا راستہ کہ دکھایا تو نے اپنے ان لوگوں کو جن پر تیری نعمتیں نازل ہو ئیں۔وہ سیدھا راستہ بتا۔جو بتایا تو نے ان لوگوں کو جو منعم علیہ تھے۔اور وارث تھے تیرے فضلوں کے۔پھر یہی نہیں کہ سیدھا راستہ دکھا اور بتا۔بلکہ یہ بھی کہ نہیں اس سیدھے رستہ پر چلا بھی۔تاہم اس پر چل کر تیری نعمتوں کو پا سکیں۔یہ دعا ہے جو اس سورۃ میں سکھائی گئی ہے۔اس پر غور کرنا چاہئے کہ کیا ہماری حالتیں اس کے