خطبات محمود (جلد 11) — Page 460
خطبات محمود م سال ۱۹۲۸ء ہیں اس لئے تکلیف محسوس نہیں کرتے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ دوزخ میں بھی دوزخیوں کے چڑے بدلے جائیں گے تاکہ انہیں عذاب کا احساس ہو تو ان لوگوں کا الاؤ میں بیٹھے رہنا ایسا ہی ہے جیسے کہ خس کی ٹٹیوں کے اندر بیٹھنا۔لیکن یہاں جو لوگ آئے ہیں وہ دوسری قسم کی زندگی کے عادی ہیں پس ان کے اس قدر تکلیف اٹھانے کے بعد اگر کچھ نتیجہ برآمد نہ ہو تو ہم سے زیادہ بد قسمت کون ہو گا کہ تکلیف بھی اٹھائی اور فائدہ بھی کچھ نہ ہوا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ درس جب انہوں نے تکلیف اٹھا کر بنا ہے تو اس سے فائدہ بھی اٹھائیں اور وہ اس طرح کہ قرآن کریم کو دنیا تک پہنچائیں۔قرآن دنیا میں غلافوں میں رکھنے یا جھوٹی قسمیں کھانے کے لئے نہیں آیا بلکہ اس لئے آیا ہے کہ منبروں پر سنایا جائے ، مناروں پر اس کی منادی کی جائے اور بازاروں میں اس کا وعظ کیا جائے۔وہ اس لئے آیا ہے کہ پڑھا جائے اور سنایا جائے ، پھر پڑھا جائے اور سنایا جائے ، پھر پڑھا جائے اور سنایا جائے۔خدا تعالیٰ نے اس کا نام پانی رکھا ہے اور پانی جب پہاڑوں پر گرتا ہے تو ان میں بھی غاریں پیدا کر دیتا ہے۔وہ نرم چیز ہے مگر کرتے کرتے سخت سے سخت پتھروں پر بھی نشان بنا دیتا ہے۔اور اگر جسمانی پانی اس قدر اثر رکھتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کا نازل کیا ہوا روحانی پانی دلوں پر اثر نہ کرے۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے بار بار سنایا جائے اور اپنے عمل سے نیک نمونہ پیش کیا جائے۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ دیوانہ وار نکلیں اور دنیا کو قرآن سے بہرہ ور کرنے کی پوری پوری کوشش کریں۔بے شک آج دنیا خدا سے دور ہو رہی ہے، دین سے غافل ہے، قسم قسم کی بدیوں میں مبتلاء ہے، آج کل کا تمدن اور تہذیب قرآن کے خلاف ہیں موجودہ طرز حکومت قرآن کے بتائے ہوئے طرز حکومت کے خلاف ہے، اس وقت لوگوں کے مشاغل اور عادات و اطوار قرآن کے خلاف ہیں ان حالات میں قرآن کو مان لینا بہت مشکل ہے۔مگر اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ سوائے قرآن کے ان تمام مفاسد کا علاج بھی کوئی نہیں۔اگر قرآن موجودہ زمانہ کے مفاسد کے علاج کے لئے کافی نہ ہوتا تو اللہ تعالٰی ضرور کوئی دوسری کتاب بھیج دیتا۔اللہ تعالٰی کسی کا دشمن نہیں جب اس نے مکہ کے رہنے والوں کے لئے کرو علم کے یہودیوں اور فریبیوں کے لئے اور فرعون کے لئے ہدایت کا سامان کیا تو اس زمانہ کے لوگوں کو وہ کبھی بھلا نہیں سکتا تھا۔وہ باوفا ہے اور ایسا باوفا ہے کہ جب لوگ اس سے بے وفائی کرتے ہیں تو رحم کرتا ہے، جب لوگ اس سے منہ پھیرتے ہیں تو وہ اس وقت یاد کرتا ہے، جب دنیا