خطبات محمود (جلد 11) — Page 406
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء پاس ایسی کتاب نہیں جو دلیل اور برہان اور حجت رکھتی ہو وہ اگر تباہ و برباد ہوں تو ان پر بھی افسوس ہو گا مگر ان پر اتنا الزام عائد نہیں ہو گا جتنا ان پر جن کے پاس دلائل اور براہین رکھنے والی کتاب تھی مگر انہوں نے اسے کھول کر نہ دیکھا اور وہ روحانی لحاظ سے ننگے پیا سے اور بھوکے رہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اے لوگو تمہارے پاس خدا کی طرف سے کھلی دلیل آگئی ہے اس کتاب کو کھول کر دیکھ لو ہر ضروری چیز اس کے اندر ہو گی۔کوئی روحانی اخلاقی اور تمدنی مسئلہ لے لو وہ قرآن میں موجود ہو گا اور اس کے دلائل دیئے گئے ہوں گے۔پھر باریک در بار یک تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔اس زمانہ کی ترقیات کی پیش گوئیاں اس میں موجود ہیں اور اگر کوئی قرآن کریم پر غور کرے تو اس کا ایمان بہت ترقی کر سکتا ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ مسلمان اس پر غور نہیں کرتے۔ایک مصری عالم نے لکھا ہے اس زمانہ میں قرآن کا مصرف صرف یہ رہ گیا ہے کہ جھوٹی قسمیں کھائی جائیں، مردوں پر پڑھا جائے یا غلاف پہنا کر طاق میں رکھ دیا جائے۔گویا قرآن کریم زندوں کے لئے نہیں مردوں کے لئے ہے یا قسمیں کھانے کے لئے ہے ایسی حالت میں اگر مسلمان قرآن سے ناواقف نہ رہیں تو اور کیا ہو۔دوسری بات خدا تعالٰی اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ اَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا - قرآن میں دلیل ہی بیان نہیں کی گئی بلکہ اسے نور مبین بتایا ہے۔یعنی ایسا نور بنایا ہے جو رستہ دکھاتا ہے۔یہ نور کیا ہے وہی ہے جیسے سرچ لائٹ ہوتی ہے۔سمندر میں چٹانوں پر روشنی کی جاتی ہے تاکہ آنے جانے والے جہازوں کو راستہ کا پتہ لگتا رہے۔پس نور مبین کے یہ معنی ہیں کہ وہ نور جو صحیح رستہ بتاتا ہے۔مطلب یہ کہ قرآن عقلی تسلی ہی نہیں دیتا دلائل کی ساتھ یہی نہیں بتانا کہ خدا ہے ، نبی آتے ہیں، فرشتے موجود ہیں، مرنے کے بعد زندگی ہے بلکہ ایسے رستے بھی بتاتا ہے جن پر چل کر خدا تعالٰی سے تعلق ہو جاتا اور انسان تباہی سے بچ جاتا ہے۔قرآن روحانی لحاظ سے سرچ لائٹ ہے۔وہ بتاتا ہے کہ ادھر چٹان ہے۔اگر ٹکراؤ گے تو تباہ ہو جاؤ گے۔ادھر سیدھا راستہ ہے اگر اس پر چلو گے تو منزل مقصود پر پہنچ جاؤ گے پس قرآن عمل کے لئے سیدھا طریق پیش کرتا ہے اور اسلام کو حقیقی طور پر ماننے والا دو سرے مذاہب کے مقابلہ میں ہی خوش نہیں ہو تا بلکہ اپنے ضمیر کے سامنے بھی خوش ہوتا ہے۔ایک ایسا شخص جو کسی ہند و یا دیگر مذاہب کے آدمی کے پاس جائے اور قرآن نے جو دلائل دیئے ہیں ان سے کام لے کر کامیاب ہو جائے تو وہ خوش ہو گا۔اور یہ خوشی دوسروں کے مقابلہ میں اسے حاصل ہوگی مگر وہ اپنے آپ میں اسی