خطبات محمود (جلد 11) — Page 324
خطبات محمود ۳۲۴ ام بم سال ۱۹۲۸م روزہ رکھنے کی بلوغت (فرموده ۹ مارچ ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: روزوں کے متعلق ایک سوال مجھے لکھ کر دیا گیا ہے۔میں اس کے متعلق آج کے خطبہ جمعہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔میں اس سوال کے متعلق پہلے بھی دو خطبے پڑھ چکا ہوں۔ایک دفعہ تو روزوں کے متعلق جو میرا خیال ہے وہ بیان کیا تھا۔پھر اس خیال کے متعلق یہی سوال جواب کیا گیا ہے پوچھا گیا تو اس کا میں نے جواب دیا تھا لیکن جن صاحب کی طرف سے اب سوال کیا گیا ہے وہ اس وقت یہاں نہ تھے بعد میں آئے ہیں اور یوں بھی بڑھنے والی جماعت میں چونکہ نئے نئے آدمی داخل ہوتے رہتے ہیں اس لئے متواتر بعض باتوں کو دہرانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں بعض باتیں ایسی ضروری ہیں جنہیں کچھ کچھ عرصہ کے بعد دہراتے رہنا چاہئے۔لیکن چونکہ ہم ان کا دہرانا بھول جاتے ہیں اس لئے نقص پیدا ہونے لگ جاتا ہے۔پس جو خطبہ میں بیان کرنے لگا ہوں وہ دوبارہ سننے والوں کے لئے بھی مفید ہو گا اور نئے آنے والوں کو کے لئے بھی اس لئے بیان کرتا ہوں۔وہ مسئلہ جو میں نے بیان کیا تھا یہ تھا کہ روزوں کے بارہ میں ہمارے ملک میں بہت سختی اور تشدد سے کام لیا جاتا ہے جو شریعت کا نشاء نہیں معلوم ہوتا۔ایسی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ چھوٹے بچوں سے روزے رکھوائے گئے اور انہیں ایسی حالت میں ڈال دیا گیا کہ بعض دفعہ تو بچہ کی جان ہی گئی۔میں نے بعض دوستوں سے سنا ہے اور میرا خیال ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول سے سنا ہے مگر ممکن ہے ان سے نہ سنا ہو کسی اور سے سنا ہو کہ کسی گھر والوں نے اپنے چھوٹی عمر کے بچہ سے روزہ رکھوایا۔اور جیسا کہ اس ملک کا دستور ہے کہ ایسے موقع پر لوگوں کو