خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 274

خطبات محمود چاہئیں۔۲۷۴ سال ۶۱۹۲۸ تیسری بات ریز روننڈ ہے اس سال جو پروگرام رکھا گیا ہے اس پر بہت کچھ خرچ ہو گا۔تمام ہندوستان میں جلسہ کرنے کے لئے لوگوں کو تیار کرنے کی خاطر کم از کم سات آٹھ پوسٹروں کی ضرورت ہوگی۔اور چونکہ اس کام کے لئے ہر فرقہ اور علاقہ کے مسلمانوں کو تیار کرنا ہے اس لئے بنگالی میں بھی پوسٹر شائع کرنے کی ضرورت ہے، تامل میں بھی ، ہندی میں بھی ، مرہٹی میں بھی اور دوسرے علاقوں کی زبانوں میں بھی۔اس قسم کا پہلا پوسٹر جو تمام مسلمانوں میں اس کام کی تحریک کرنے کے لئے ضروری ہے جنوری یا زیادہ سے زیادہ فروری میں شائع ہو جانا چاہئے اور کم از کم ساٹھ ستر ہزار کی تعداد میں شائع ہونا چاہئے جس کے لئے بہت بڑے اخراجات کی ضرورت ہے۔اس کے بعد خط و کتابت اور دوسری ہدایات بھیجنے کے لئے اور سارے ہندوستان میں بھیجنے کے لئے بڑے خرچ کی ضرورت ہے۔پس جب تک بہت جلد بلکہ جنوری میں بنی ایک بڑی رقم نہ آجائے اس کام میں ہاتھ ڈالنا نہایت خطرناک ہوگا۔وہ دوست جنہوں نے سالانہ جلسہ پر ریز رو فنڈ جمع کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ کچھ نہ کچھ جنوری میں پھر فروری میں اور مارچ میں جمع کر کے بھیج دیں تاکہ سہولت کے ساتھ اس کام میں ہاتھ ڈالا جا سکے۔اس کے بعد ایک سوال کے متعلق جو پچھلے ہفتہ میرے سامنے پیش ہوا میں اس وقت روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ایک دوست نے لکھا کہ ۱۹۲۵ء کے خطبہ میں میں نے درود کے متعلق وشنی ڈالی تھی جس سے بہت لوگوں نے فائدہ اٹھایا تھا۔مگر وہ کہتے ہیں ایک سوال ہے جس پر روشنی نہ ڈالی گئی تھی جو کہ ضروری ہے وہ سوال یہ ہے کہ درود میں یہ دعا سکھائی گئی ہے۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى إِلى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔اسی طرح یہ دعا ہے اللهُم بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا - بارَكتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى إِلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔حالا نکہ رسول کریم ﷺ کا درجہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑا ہے۔ایک بڑے درجہ والے کے لئے یہ دعا کرنا کہ اسے وہ کچھ ملے جو اس سے چھوٹے درجہ والے کو ملا اور نہ صرف ایک دفعہ بلکہ یہ دعا کرتے ہی چلے جانا اور قیامت تک کرتے چلے جانا یہ ایک معمہ اور چیستان ہے جس کا حل ضروری ہے۔واقعہ میں اگر اس بات کی حقیقت پر غور نہ کریں تو یہ بات ایسی ہی معلوم ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کوئی فقیر تھا ایسے لوگ چونکہ ادھر ادھر پھرتے رہتے اور کوئی مستقل ٹھکانا نہیں رکھتے اس رو