خطبات محمود (جلد 11) — Page 232
خطبات محمود ۲۳۲ سال 1927ء راجپال پر حملہ کرنے والا کہا جاتا ہے اپنے گھر بیٹھا ہوتا اور راجپال اس پر حملہ کرتا اس وقت خود حفاظتی میں خود زخمی ہو جاتا۔یا اسے زخمی کر دیتا اور مسلمان کہتے اس نے بہت برا کیا۔تو میں کہتا ایسے مسلمان منافق ہیں جو ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے مسلمانوں پر الزام لگا رہے ہیں۔اور اپنے نفاق کو اپنے بھائی کی دشمنی کے پردہ میں چھپا رہے ہیں۔اور جسے وہ روشنی سمجھ رہے ہیں۔وہ روشنی نہیں۔بلکہ روغن قاز ہے یا تارکول ہے۔جس سے اپنا چہرہ سیاہ کر رہے ہیں۔لیکن جہاں بات بالکل عیاں نہ ہو۔بلکہ کچھ اخفا ہو۔وہاں قوم کا فرض ہے کہ جو افراد پھنس گئے ہوں ان کی مدد کرے۔مثلاً جس طرح ایک شخص کا بیان ہے کہ میں پاس سے گزر رہا تھا کہ میں نے رسول کریم کی ہتک ہوتی سنی اس پر میری ان سے لڑائی ہو گئی۔یہ ایسابیان ہے جو امکان رکھتا ہے کہ درست ہو۔گو اس کے بعد کا بیان اسے مجرم بنانے کے لئے کافی ہے۔مگر جہاں بیان کے درست ہونے کا امکان ہو۔ایسی حالت میں مسلمانوں کا فرض ہے کہ مدد کریں اور جب تک جرم ثابت نہ ہو امداد سے پہلو تہی نہ کریں۔لیکن ایک جرم بالبداہت ظاہر ہوتا ہے۔جیسے راجپال نے کتاب شائع کی اور ہندوؤں نے اس کی مدد کی۔یہ ظالمانہ فعل کیا۔اسی طرح اس قسم کا کیس جس طرح کا سوامی شردھانند کا تھا۔اس میں مدد کرنا میں نا مناسب سمجھتا ہوں۔اس مقدمہ میں ایک احمدی بیرسٹر بلائے گئے۔جس پر میں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔کیونکہ کم از کم میرے نزدیک ملزم کا جرم ثابت تھا۔ایک مرا ہوا آدمی پایا گیا۔عین اس موقع پر ملزم کو پکڑا گیا جس کے ہاتھ میں پستول تھا۔اور اسی پستول کی گولیاں مقتول کے جسم سے نکلیں۔ایسی حالت میں کون امید کر سکتا ہے کہ سوامی شردھانند کے رشتہ داروں نے انہیں خود مار کر ایک شخص کو پکڑ لیا۔یہ عقل کے خلاف ہے۔ملزم کا وہاں ہونا۔عین موقع پر پکڑا جاتا۔اس کے ہاتھ میں پستول ہونا۔پستول کی گولیوں کا مقتول کے جسم سے نکلنا یہ ایسے واقعات نہیں ہیں کہ جرم ثابت نہ ہو۔ایسی مثال میں مجرم کی مدد کرنا میرے نزدیک جائز نہیں۔ہاں عدالت کا فرض ہے کہ اس کے لئے وکیل مقرر کرے۔تاکہ کیس ان ڈیفنڈڈ (UNDEFENDED) نہ رہے۔لیکن جہاں ایسا کھلا کیس نہ ہو۔جیسا کہ راجپال اور عبد الرشید کا تھا۔وہاں مسلمانوں کا حق ہے کہ ملزم کی مدد کریں۔پس میرے نزدیک یہ غلطی ہوئی۔پیشتر اس کے کہ لاہور کے مقدمات میں مجرم ثابت ہوں۔ملزموں کو اپنی حفاظت کا موقع نہیں دیا گیا۔اور ان کی طرف سے وکیل مقرر نہیں کیا گیا۔صرف ایسے واقعات کا جمع ہو جانا جن سے جرم کا اشتباہ ہو مجرم قرار دینے کے لئے کافی نہیں ہوا کرتا۔اور اس کے ساتھ ملزم کے دفاع کے حقوق