خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 223

خطبات محمود ۲۲۳ سال 1927ء میرے متعلق پیشگوئیاں موجود ہیں کہ جب مسیح نازل ہو گا تو اس کا بیٹا اس کا خلیفہ ہو گا۔پھر محمد کی پیشگوئی میرے متعلق موجود ہے۔آپ نے مسیح موعود کے متعلق فرمایا ہے " بتزوج و يولد له حضرت مسیح موعود نے اس کی تشریح فرمائی ہے کہ مسیح موعود کی اولاد بھی موعود ہوگی۔اس کی بیوی خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کو پورا کرنے والی ہوگی۔اور اس کی اولاد پیشگوئی کی مصداق ہوگی۔پھر دوسری پیشگوئی رسول کریم ﷺ نے رجال من اهل فارس (بخاری کتاب التفسير تفسیر سورة الجمعہ فرمائی ہے کہ اہل فارس میں سے کچھ رجال ہوں گے جو دین کو آخری زمانہ میں مستحکم کریں گے۔مسیح موعود ر جل تھے۔پس رسول کریم ال نے رجال کہہ کر آپ کی اولاد کو بھی اس پیشگوئی میں شامل کیا ہے۔اس سے اتر کر دیکھو تو نعمت اللہ صاحب ولی کی پیشگوئی موجود ہے۔اور حضرت مسیح موعود نے اس کا ذکر کیا ہے جس میں لکھا ہے پسرش یاد گارے بینم صرف خلافت کا اس میں ذکر نہیں ہے حضرت مسیح موعود اور میرے درمیان خلافت تو ایک اور بھی ہوئی ہے۔جو بہت بڑی خلافت تھی مگر نعمت اللہ صاحب ولی نے اس کا ذکر نہیں کیا۔اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ زمانہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو پھیلایا جائے گاوہ میرا زمانہ ہے۔اور میرے زمانہ میں خدا تعالی کی خاص برکات نازل ہونگی۔اس لئے اس کی نسبت پیشگوئی کی گئی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود کے الہامات دیکھو۔ایک نہیں دو نہیں بہت سے ہیں۔اور پھر آپ کی تحریروں سے بھی اس خلافت کا پتہ ملتا ہے۔پھر میرے متعلق حضرت خلیفہ اول کی شہادت موجود ہے۔پھر ایک دو نہیں۔دس ہیں نہیں۔کم از کم ہزار کے قریب ایسے لوگ ہیں۔جن میں احمدی اور غیر احمدی ہندو عیسائی شامل ہیں۔کہ ان کو رڈیا کے ذریعہ یا تو پہلے یا میری خلافت کے دوران میں اس خلافت کا پتہ معلوم ہوا۔ان میں سے ابھی تک بعض ایسے ہیں جو جماعت میں شامل نہیں ہوئے۔ان سے شہادت لی جاسکتی ہے۔جیسے ماسٹر فقیر اللہ صاحب غیر مبایع ہیں۔انہوں نے دیکھا کہ میں خلیفہ ہو گیا ہوں۔انہوں نے خود بیعت نہ کی۔اور جب پوچھا گیا کہ آپ بیعت کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا میری خواب درست ہو گئی ہے باقی مجھے یہ نہیں کہا گیا تھا کہ میں بیعت بھی کروں۔اسی طرح اکبر شاه خان صاحب نجیب آبادی تھے۔ان کے متعلق اب سنا ہے نہ معلوم کہاں تک سچ ہے کہ ان کا سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔انہوں نے میری مخالفت کے دوران میں رویا دیکھی۔اور پھر انہوں نے بیعت بھی کرلی۔گو اس پر قائم نہ رہے۔اسی طرح ڈاکٹر عبد اللہ صاحب جو میرے ایک فیصلہ پر ناراض ہو کر نظام الگ ہو گئے ہیں انہوں نے غالباً ۱۹۲۳ء