خطبات محمود (جلد 11) — Page 218
خطبات محمود PIA سال 1927ء تھا یہ غلط ہے۔دو تین سو سال بعد کے لوگ خواہ کتنے ہی دشمن ہوں اس قسم کے الزام نہیں گھر سکتے۔رسول کریم اے کی وفات کے بعد میں سمجھتا ہوں پچاس ساٹھ سال بھی نہ گزرے ہوں گے کہ جن لوگوں کو آپ سے ذاتی بغض و عداوت تھی وہ مرگئے ہوں گے اور ان کے بعد آنے والوں کے سامنے رسول کریم اے کی ایسی ہی صورت تھی جس سے خدا تعالی کی محبت اور اس کی مخلوق سے شفقت ظاہر ہوتی تھی کیونکہ اس وقت کے لوگوں کو آپ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہو سکتا تھا۔گلہ شکوہ کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ کوئی معاملہ پڑا ہو۔کوئی مقدمہ پیش آیا ہو۔کچھ فوائد وغیرہ مد نظر ہوں مگر تین چار سو سال بعد آنے والوں کو کیا شکوہ ہو سکتا ہے۔ان میں سے کسی کے ر نظریہ بات نہیں ہوتی کہ مجھے یہ فائدہ ملنا چاہئے تھا۔جو نہیں ملا۔مجھ پر یہ سختی کی گئی ہے یا میرے فلاں معاملہ میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا۔پس وہ لوگ جو رسول کریم ان کے زمانہ کے تھے جب فوت ہو گئے تو بعد والوں کو آپ سے کوئی ذاتی گلہ شکوہ نہ تھا۔چونکہ ان کے ماں باپ نے انہیں یہ بتایا تھا کہ محمد ( ) بڑے آدمی تھے۔اس لئے وہ محبت سے ہی آپ کا نام لیتے تھے۔اور اس وجہ سے ان کے تعلقات رسول کریم ﷺ سے محبت کے ہی ہو سکتے تھے کینہ اور بغض کے نہیں ہو سکتے تھے۔کینہ کے تعلقات انہی کے ہوتے ہیں جن کے دل میں کسی قسم کی حرص و آز ہو اور وہ پوری نہ ہوئی ہو۔مثلاً رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ مال تقسیم کیا۔ایک شخص کو مال حاصل کرنے کی حرص تھی مگر اسے نہ ملا۔اس پر اس نے کہا آپ نے ایسی تقسیم کی ہے کہ خدا کی نہ رضا کو مد نظر نہیں رکھا لیکن آپ کی وفات کے سو سال بعد کوئی یہ نہ کہہ سکتا تھا۔پس چونکہ آپ کی وفات کے بعد شکوہ و شکایت کا سبب نہ پیدا ہو سکتا تھا۔اس لئے کوئی آپ کی ذات پر الزام ہی نہیں لگا سکتا تھا۔ہاں کفر والی دشمنی ہو سکتی تھی۔اور وہ اسی طرح کہ واقعات کو بگاڑ کر کفار پیش کریں۔نئے واقعات وہ نہیں بنا سکتے۔پس جس قدر ایسے واقعات مشہور ہیں۔جن میں رسول کریم کے کیر کٹر پر حملہ ہوتا ہے۔ان کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ آپ کی وفات کے دو تین سو سال بعد بنے غلط ہے۔انہیں رسول کریم ان کے زمانہ میں ہی منافقوں نے آہستہ آہستہ پھیلایا۔جس سے ان کی غرض یہ تھی کہ رسول کریم ﷺ کی طاقت کو کمزور کریں۔اس کے بعد بعض لوگوں نے روایتیں بنائیں۔ایسے راوی بے وقوف ضرور تھے۔مگر انہوں نے یہ باتیں خود نہیں گھڑیں جنہوں نے گھڑیں وہ رسول کریم اے کے زمانہ کے ہی لوگ تھے۔جنہیں کوئی نہ کوئی آپ سے شکوہ تھا۔پس ہمیشہ ہر کام میں روک پیدا کرنے والے پیدا ہوتے رہے ہیں۔اور میں دیکھتا ہوں جس