خطبات محمود (جلد 11) — Page 186
خطبات محمود 1A4 سال 1927ء نے امداد کے لئے میرے پاس درخواستیں بھیجی ہیں۔ان میں سے اکثر کے مصائب میرے نزدیک ایسے ہیں کہ اگر میرے پاس روپیہ ہو تا تو میں ضرور انہیں دے دیتا مگر اتنا روپیہ آئے کہاں سے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ اس وقت مسلمان اربوں روپے کے زیر بار ہیں۔مگر باوجود اس کے کبھی بحیثیت قوم انہوں نے اس کی فکر نہیں کی۔اگر مسلمان آج سے پچیس سال پہلے ہی فکر کرتے تو اس قدر مقروض نہ ہوتے اور اگر کچھ لوگ مقروض ہو جاتے تو قوم ہی ان کا قرض ادا کر دیتی۔ہماری جماعت میں اس بات کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔اور سالانہ پچاس ساٹھ ہزار روپیہ بیواؤں۔یتیموں اور غرباء پر خرچ ہوتا ہے۔لیکن پھر بھی سینکڑوں ایسے رہ جاتے ہیں جن کی حالت امداد کا تقاضا کرتی ہے لیکن ہم مدد نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے پاس ہو تا کچھ نہیں۔اگر تمام مسلمانوں میں اسی طرح قومی زندگی پیدا ہو جائے جیسے ہماری جماعت میں ہے تو پھر ضرورت مند مسلمانوں کی مدد کرنا کچھ مشکل نہیں۔مگر دو تسبھی کی جاسکتی ہے کہ پاس کچھ ہو۔جب سامان ہی نہ ہو تو کیا امداد کی جاسکتی ہے۔دیکھو حضرت ہاجرہ کو اسماعیل جو خاوند کی بڑھاپے کی عمر کا بچہ تھا کتنا پیارا ہو گا مگر جب اسے پیاس لگی تو سوائے تڑپنے اور بھاگنے دوڑنے کے کیا کر سکتی تھیں۔اسی طرح جب قومی سرمایہ ہی نہ ہو تو مسلمانوں کی تکلیف کا ازالہ کسی طرح کیا جا سکتا ہے ہاں سرمایہ مہیا کر دو اور پھر دیکھو کس طرح آناً فاناً حالت درست کی جاسکتی ہے۔افسوس یہ ہے کہ مسلمانوں کی نہ دنیوی حالت درست ہے نہ دینی۔ہمارا کام تو دینی حالت کی اصلاح ہے۔جس کے لئے کتابوں کی اشاعت کرنے کی ضرورت ہے۔ہم بہتر سے بہتر کتابیں شائع کر سکتے ہیں۔مگر سرمایہ نہیں۔اور جو کتاب چھپوائی جاتی ہے وہ اتنی قلیل نکلتی ہے کہ اس سے خرچ بھی پورا نہیں ہو سکتا۔جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں کتابوں سے فائدہ اٹھانے کا احساس ہی نہیں۔یہ احساس بھی پیدا کیا جا سکتا ہے مگر یہ بھی خرچ چاہتا ہے۔بات یہ ہے جب تک کامل طور پر تو کل پر عمل نہ کیا جائے مسلمانوں کی حالت درست نہیں ہو سکتی۔اور جب تک حالت درست نہ ہو۔بھائی بھائی کی مدد نہیں کر سکتا۔میرے خیال میں اگر مسلمانوں کی مردم شماری کر کے دیکھا جائے تو سو میں سے ۸۵ مقروض نکلیں گے۔اور یہ ایسے لوگ ہونگے جو کمانے والے ہونگے۔اور کوئی تعجب نہیں۔اس سے بھی زیادہ ہوں۔یہ اندازہ میں نے بہت احتیاط سے لگایا ہے ورنہ شاید ہی کوئی مسلمان ہو۔جو مقروض نہ ہو۔یہ نتیجہ ہے تو کل جیسی بہترین ہدایت پر عمل نہ کرنے کا۔اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی تدابیر سے منہ موڑنے کا۔اکثر لوگ دینی امور میں بھی شکایت کرتے ہیں کہ روحانی فوائد حاصل نہیں ہوتے۔مگر وہ بھی صحیح طور پر توکل