خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 12

خطبات محمود ir سال 1927ء سے آدمی قتل کئے ہیں تو اس کا نعل نہ صرف جائز بلکہ قابل تعریف ہو گا۔اور وہ قاتل تعریف کا مستحق ہو گا۔یا ایسی طرز پر کسی کو قتل کیا ہے کہ وہ اس قتل پر مجبور ہے۔مثلاً جلاد ہے وہ حکومت کی طرف سے اس شخص کے قتل پر مجبور ہے جس کے قتل کا حکم حکومت کی طرف سے جاری ہو چکا ہے۔اور یہ شخص اس کے قتل پر مقرر ہے تو اس کا فعل بھی جائز سمجھا جائے گا۔یا اگر پاگل جنون کی حالت میں کسی کو مار دے۔تو وہ بھی قابل الزام نہیں ہو گا۔یا کسی کے ہاتھ سے کوئی چیز کسی پر اتفاقی طور پر گر پڑے جس سے دوسرا شخص مرجائے۔تو وہ بھی زیر الزام نہیں آئے گا۔لیکن اگر یہ معلوم ہو کہ وہ شخص ہوش و حواس میں تھا۔اتفاقی طور پر وہ فعل اس سے سرزد نہیں ہوا اور اس نے عمداً یہ فعل کیا ہے۔تو وہ مجرم قرار دیا جائے گا۔لیکن ان تمام باتوں کا یقینی فیصلہ تبھی ہو سکتا ہے۔جب ملزم پکڑا جائے اور اس کے تمام حالات معلوم ہوں۔پھر ہمیں معلوم ہو کہ کن حالات کے ماتحت وہ اس فعل کا مرتکب ہوا۔اب لیکھرام صاحب کا قاتل تو پکڑا نہیں گیا تھا۔اور وہ ہمارے سامنے نہیں آیا اور اس کے حالات ہمارے سامنے نہیں آئے۔اس لئے ہم اسے کیسے قابل ملامت کہہ سکتے ہیں اور مجرم قرار دے سکتے ہیں۔گوند ہی طور پر تو ہمارا یہی اعتقاد ہے کہ لیکھرام صاحب کے قتل میں انسان کا دخل ہی نہیں۔اس قتل میں ملائکہ کا دخل تھا۔اس صورت میں وہ اعلیٰ درجہ کا فعل تھا کیونکہ فرشتہ نے خدا کے حکم کے مطابق وہ کام کیا اور قدرتی فعل تھا۔قدرتی فعل کو ہم برا نہیں کہہ سکتے مثلاً سنکھیا زہر قاتل ہے اس کا ہلاک کرنا قدرتی امر ہے۔لیکن پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ چونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ آیا لیکھرام صاحب کو فرشتہ نے قتل کیا یا ایسے شخص نے جو ہمارے علم و عقل سے بالا ہے۔کیونکہ وہ پکڑا نہیں گیا۔اس لئے ہم اس کے متعلق کوئی رائے نہیں قائم کر سکتے۔ہو سکتا ہے کہ لیکھرام صاحب کا قاتل ان کی قوم کا ہی کوئی شخص ہو۔کیونکہ واقعہ لیکھرام صاحب کے بعد خود آریہ قوم کے ایسے بیانات شائع ہوئے ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ باہمی جھگڑوں کے سبب مارے گئے۔حتی کہ بعض نے لکھا کہ وہ اپنے ہمسایوں کے کسی جھگڑے میں قتل ہوئے اب جب ہمیں نہ یہ معلوم ہے کہ وہ فرشتہ کے ہاتھ سے قتل ہوئے۔اور نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کسی معذور کے ہاتھ سے مارے گئے۔تو ہم کیسے ان کے قاتل کے متعلق فیصلہ کریں۔ہاں ہم یہ ضرور کہنے کو تیار ہیں کہ اگر انسانوں میں سے کسی شخص نے انہیں عمد اقتل کیا اس کے ہوش و حواس درست تھے۔اس کی عقل ٹھکانے تھی اور نہ اتفاقی طور پر اس سے وہ فعل ہوا نہ کسی فوری جوش کی حالت میں اس