خطبات محمود (جلد 11) — Page 154
خطبات محمود ۱۵۴ سال 1927ء کے مقابلہ میں تمہارے چہروں پر مسرت اور زبانوں پر خوشی کے کلمات ہوں۔اور تمہارے ہاتھ ان کی بہتری کے لئے کام کریں۔چنانچہ صحابہ نے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے تبلیغ اسلام پر زور دیا۔ان کے لئے خدا تعالیٰ کی نصرت آئی۔لیکن اس کے لئے انہیں تدبیریں کرنی پڑیں۔حدیثوں میں آتا ہے جب تک مسلمانوں کو غلبہ حاصل نہیں ہوا۔اس وقت تک انہوں نے کفار کے ہاتھوں کا کھانا نہ کھایا۔اور سالہا سال تک ان کا کھانا منع رہا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ گو کفار کی تعداد ان سے زیادہ تھی۔اور کفار بہت طاقت ور بھی تھے تو بھی انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ جو کچھ لینا ہو گا مسلمانوں سے ہی لیں گے۔اگر اس تدبیر پر عمل نہ کیا جاتا اور مسلمان کفار سے خرید و فروخت کرنے سے نہ رکتے۔تو مسلمان بالکل کنگال اور بے حال ہو جاتے۔پس اس وقت رسول کریم اے نے ان سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ دشمنوں سے لڑو۔ان کو گالیاں دو۔ان پر غصہ کا اظہار کرد - بلکہ یہ کہا کہ جو تدبیر تمہاری تباہی کی یہ کر رہے ہیں کہ تمہیں بائیکاٹ کر رکھا ہے۔یہی تم بھی ان کے متعلق کرو۔اس کا نتیجہ کم از کم یہ تو ہو گا کہ مسلمانوں کی دولت مسلمانوں کے ہی گھروں میں رہے گی۔چنانچہ اس طرح مسلمانوں کے اموال محفوظ رہے۔اسی طرح اور جس قدر معاملات رسول کریم اے کے زمانہ میں ہوئے ان میں آپ نے اسی احتیاط سے کام لیا۔الهلال صلح حدیبیہ کے وقت جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو حضرت علی نے رسول کریم ﷺ کی طرف سے لکھا کہ محمد رسول اللہ یوں کہتا ہے۔کفار نے اس پر اعتراض کیا کہ ہم تو انہیں رسول نہیں سمجھتے۔اگر رسول سمجھتے تو لڑتے کیوں۔اس لئے رسول اللہ کے الفاظ نہ ہوں۔اس پر رسول کریم ایتالی نے فرمایا یہ کاٹ دو۔حضرت علی نے کہا مجھ سے تو یہ نہیں ہو سکتا۔آپ نے فرمایا لاؤ میرے پاس اور آپ نے انگوٹھے سے وہ الفاظ مٹا دیئے کہ اور کفار کی بات مان لی۔اس طرح ان کو اس تدبیر میں لے آئے جو بالاخر ان کی تباہی کا موجب ہو گئی۔اور وہ یہ تھی کہ کفار نے چاہا تھا کہ ملکہ سے جو لوگ اسلام قبول کریں۔وہ رسول کریم ان کے پاس مدینہ نہ جائیں۔اور اگر جائیں تو آپ ان کو واپس بھیج دیں۔بظاہر یہ ایک ہلاکت کی بات نظر آتی ہے۔مگر رسول کریم این نے اسے منظور کر لیا۔اس سے صحابہ میں جوش پیدا ہوا کہ اس شرط کا قبول کرنا مسلمانوں کی ہتک ہے کیوں کہ معاہدہ یہ قرار پایا تھا کہ اگر کوئی مرتد ہو جائے تو اسے مکہ واپس آجانے کی اجازت ہو۔لیکن اگر کوئی مسلمان ہو جائے تو وہ مسلمانوں کے پاس مدینہ نہ جائے اور اگر جائے تو اسے واپس بھیج دیا جائے۔صحابہ کو اس پر بہت جوش آیا۔مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو کافر ہو جائے۔اسے ہمیں کیا کرنا ہے۔جہاں