خطبات محمود (جلد 11) — Page 133
خطبات محمود سال 1927ء رو کتا کون ہے وہ اس کوشش کو بھی جاری رکھیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس وقت چند سال تک ایک فیصلہ ہونے والا ہے۔اور اسی فیصلے پر مسلمانوں کی ترقی کا انحصار ہے۔اور جو بات چند سال میں حاصل ہو سکتی ہے۔کیا اس کے لئے سینکڑوں اور ہزاروں سال انتظار کرنا درست ہے۔مسلمانوں کو آج ضرورت ہے کہ وہ آج اس سیاسی جھگڑے کا فیصلہ کریں۔تو کیا جس فیصلے کی انہیں آج ضرورت ہے اس کے لئے کسی دور کے زمانہ کا منہ دیکھا جائے۔اور پھر یہ بھی یقینی امر نہیں کہ ضرور ہی اتنے عرصہ کے بعد یہ بات حاصل ہو جائے گی۔کیونکہ کوئی بھی ایسا نہیں جو کے سات آٹھ سو سال یا ہزار دو ہزار سال میں مسلمانوں سے یہ منوالیا جا سکتا ہے کہ جن کو تم مانتے ہو۔انہیں چھوڑ دو۔یا جن مسئلوں کو تم ترجیح دیتے چلے آرہے ہو۔انہیں ترجیح نہ دو۔یا جن باتوں کی تم عزت کرتے چلے آرہے ہو ان کو حقیر سمجھو۔یا جن کو تم سینکڑوں سالوں سے کافر کہتے ہو ان کو کافر نہ کہو۔اس میں کچھ شک نہیں کہ آج کل دنیاوی امور کی محبت بڑھ رہی ہے۔لیکن اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔جو لوگ یورپ کے اثر کے نیچے بت پرستوں اور مشرکوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں کو بھی کافر نہیں کہنا چاہتے۔وہ صرف دنیاوی طور پر ایسا کرنا نہیں چاہتے۔یہ مذہبی وسعت نظری نہیں۔بلکہ اس سے تو مذہب کی قدر کم ہوتی ہے۔گو بعض لوگوں کے نزدیک اس سے فائدہ ہوتا ہے۔مگر یہ فائدہ دنیاوی امور کے لحاظ سے ہے کیونکہ یہ مذہبی وسعت خیال کی وجہ سے نہیں ہے۔لیکن اگر اس رو کو بھی جاری رکھیں۔تو بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سات آٹھ سو سال میں ہم تمام لوگوں کو ہم خیال بنائیں گے۔پس میں نے ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک تعریف اسلام کی یہ کی تھی جو نہ ہی تعریف تھی۔اور کہا تھا کہ اس بات کو مسلمانوں کے فرقوں کی صلح کی بنیاد نہ بنائیں کہ پہلے اختلاف مٹانے چاہئیں۔یہ اختلاف جلدی نہیں مٹ سکتے۔اور مسلمانوں کو ضرورت ہے کہ وہ جلدی متحد ہوں اور اس مقابلے کا جلد فیصلہ ہو۔دو سری تعریف اسلام کی میں نے یہ کی تھی اور یہ سیاسی تعریف ہے کہ جبکہ شیعہ سنیوں کو اور سنی شیعوں کو حنفی اہل حدیث کو اور اہلحدیث حنفیوں کو اور چکڑالوی وہابیوں کو اور وہابی چکڑالویوں کو کافر کہتے ہیں۔تو اس کے مقابلہ میں ہندو اور عیسائی لوگ ان باتوں سے متاثر نہیں ہوتے۔یہ سن کر کہ حنفی شیعوں کو کافر کہتے ہیں۔یہ نہیں کہتے کہ چونکہ شیعوں کو یہ لوگ کافر کہتے ہیں اس لئے شیعوں کے ساتھ اور معاملہ کرنا چاہئے۔اور ایسا ہی ایک حنفی کے متعلق کا فر کا لفظ سن کر ہندو یہ نہیں کہتے کہ آؤ حنفیوں کے ساتھ وہ سلوک نہ کریں۔جو ہم مسلمانوں سے کرنا چاہتے ہیں۔بلکہ وہ تمام