خطبات محمود (جلد 11) — Page 131
خطبات محمود +1927 توحید - اتحاد کے لئے ایک بنیادی اصول فرموده ۳/ جون ۶۱۹۲۷ ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے مسلمانوں کی اس مصیبت کو دیکھ کر کہ وہ آپس کے شقاق اور تفرقہ میں پڑے ہوئے ہیں۔اور دشمنان اسلام کی طرف سے برابر اسلام اور مسلمانوں کے حقوق پر حملے کئے جاتے ہیں۔اور اسلام کی حفاظت کے لئے کسی کو فکر نہیں۔اور مسلمان چھوٹے چھوٹے اختلافوں میں پڑے ہوئے ہیں۔بلکہ چھوٹے اختلاف کو بڑے اختلاف پر ترجیح دے کر بڑے اختلاف سے بچنے کی فکر نہیں کرتے۔اور بر خلاف اس کے چھوٹے اختلاف کے لئے اپنے اموال اور اپنی عقل اور اپنی کوشش صرف کر رہے ہیں۔پچھلے چند سالوں کے عرصہ میں یہ تجویز مسلمانوں کے سامنے رکھی تھی کہ اس زمانہ میں اسلام کی دو تعریفیں ہیں۔اسلام کی ایک تعریف مذہبی ہے۔اور اس کا ہر ایک شخص اپنی ذات میں فیصلہ کر سکتا ہے۔کیونکہ اس کا تعلق دل ، عقائد اور ایمان کے ساتھ ہے اور انسان عقائد میں آزاد ہوتا ہے۔ایک شخص جس چیز کو سچا سمجھتا ہے یہ ناممکن ہے کہ اسے محض کسی کے کہہ دینے سے جھوٹا سمجھنے لگ جائے۔یہ تعریف تو ایسی ہے کہ اس کا تعلق افراد سے ہے۔اور اس تعریف کے لحاظ سے جو شخص جس چیز پر قائم ہو گیا۔اس سے اس کو ہٹانا یا اس چیز کو بد لو انا انسانی طاقت اور قدرت سے باہر ہے۔اللہ تعالیٰ نے مختلف طبائع پیدا کی ہیں۔اور انسان اس اختلاف طبائع کے سبب مختلف نتائج پر پہنچتا ہے۔اور جس بات کو وہ پکڑ لیتا ہے اس کو وہ مشکل سے چھوڑتا ہے۔اس تعریف کی رو سے خواہ کسی کو کتنا ہی غلطی خوردہ کہیں اور اس کے لحاظ سے خواہ وہ کتنا ہی کسی کو برا کہے۔حتی کہ ولیوں بلکہ ماموروں اور نبیوں کو بھی کافر کے تو جب تک وہ انہیں کافر کہتا ہے ہم اسے یہ نہیں کہہ سکتے کہ