خطبات محمود (جلد 11) — Page 5
خطبات محمود سال 1927ء دلانے پر میدان کو چھوڑ کر چلے جانا اتنے بڑے ایمان پر دلالت کرتا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔دوسری طرف جب بعض شریروں نے جو بانی فساد تھے دیکھا کہ صلح ہونے لگی ہے۔اور ہمارا مقصد ٹوٹنے لگا ہے تو سوچنے لگے کہ اب کیا کیا جائے۔آخر انہوں نے شرارت سے یہ منصوبہ کیا کہ حضرت عائشہ پر تیراندازی کریں جس سے پھر جنگ چھڑ جائے گی کیونکہ لوگ حضرت عائشہ پر تیر اندازی کو برداشت نہیں کریں گے۔اور واقعہ میں بھی مسلمان یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ دہ عائشہ کہ جس کی رانوں پر رسول اللہ سر رکھ کر سوئے ہوں اور جس کی گود میں رسول اللہ نے وفات پائی ہو۔اسے وہ تیروں کا تختہ مشق بنتی ہوئی دیکھیں۔چنانچہ اس وجہ سے جب حضرت عائشہ پر تیراندازی شروع ہوئی تو مسلمان دو ڑ کر حضرت عائشہ کے ہو رج کے قریب ان کی حفاظت کے لئے پہنچ گئے۔جب جنگ شروع ہو جاتی ہے تو ہوش کہاں قائم رہ سکتے ہیں اور اصل بات معلوم کرنے کی کہاں ہوش رہتی ہے۔جس وقت حضرت عائشہ پر حملے ہو رہے تھے۔ایک قبیلہ عرب جو کئی سو کی تعداد میں میدان جنگ میں موجود تھا۔وہ سارے کا سارا حضرت عائشہ کے گرد جمع ہو گیا۔ان میں سے ایک ایک آگے بڑھتا اور حضرت عائشہ کے اونٹ کی نکیل پکڑتا اور یہ شعر پڑھتا کہ جب ہم نے اپنی جسمانی ماؤں کو میدان میں کبھی اکیلے نہیں چھوڑا تو آج ہم اپنی روحانی ماں کو میدان میں کیونکر اکیلی چھوڑ سکتے ہیں اور کیونکر میدان سے بھاگ سکتے ہیں۔اس وقت مالک سے جو میرے نزدیک فتنہ میں بہت بڑا حصہ دار تھا حضرت عائشہ پر حملہ کر رہا تھا۔اور وہ عام لوگوں میں نیک خیال کیا جاتا تھا۔یہاں تک کہ حضرت علی کا بھی اس کے متعلق اچھا خیال تھا۔ممکن ہے کہ وہ طبیعت کا متفنی ہی ہو۔لیکن بعض ظاہری نیک اعمال کی وجہ سے اچھا خیال کیا گیا ہو۔مگر تاریخ بتاتی ہے کہ بانیان فساد میں سے ایک یہ بھی تھا۔تاریخ میں اس کے بہت سے جھوٹ ثابت ہیں۔حضرت عثمان کے خلاف بھڑکانا بھی ثابت ہے۔کم از کم میری عقل اس بات کو دیکھ کر کہ وہ شخص رسول اللہ کی حرمت پر حملہ کر رہا ہے اسے بزرگ ماننے کے لئے تیار نہیں۔مجھے تو یہاں تک معلوم ہے کہ حضرت مسیح موعود حضرت علی کے متعلق یہ رائے رکھتے تھے کہ وہ حضرت عائشہ کی اور بھی خدمت کرتے (یعنی حضرت علی نے کافی حفاظت و خدمتگذاری نہیں کی تو وہ شخص جو ان پر حملہ کر رہا ہو وہ کیسے بزرگ تسلیم کیا جا سکتا ہے۔اور میرے اس خیال کی تصدیق حضرت عبد اللہ بن زبیر بھی کرتے ہیں جو اسلام میں پہلے مجدد ہیں۔مالک جب حضرت عائشہ پر حملہ کرنا چاہتا تھا تو حضرت عبد اللہ بھی میدان جنگ میں پہنچ گئے