خطبات محمود (جلد 11) — Page 90
خطبات محمود 9۔سال 1927ء دم تو ڑ رہا ہے یا مر گیا ہے۔یا بیمار جس کی جان لبوں پر تھی وہ تو ابھی زندہ ہے۔لیکن اس کے لئے جو چنگا بھلا دوائی لینے گیا تھا وہ قتل ہو گیا ہے۔یا جس کی بیوی منتظر ہو گی کہ اس کا خاوند یا جس کی ماں منتظر ہوگی کہ اس کا بچہ یا جس کی بہن منتظر ہوگی کہ اس کا بھائی یا جس کے بچے منتظر ہوں گے کہ ان کا باپ ابھی ابھی بائیسکل پر سوار گھر آنے والا ہے وہ جب یہ سنیں گے کہ ان کے باپ کی لاش بازار میں پڑی ہے۔یا جب ماں بنے گی کہ اس کے بچے کی لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ہے یا جب بہن سنے گی کہ اس کا بھائی خون سے نہا کر دم تو ڑ رہا ہے یا جب بیوی سے گی کہ اس کا خاوند اس بے دردی اور بے رحمی سے ہلاک کر دیا گیا ہے تو ان کی کیا حالت ہوگی۔ایسی بیواؤں ایسے قیموں ، ایسے والدین ایسے بہن بھائیوں کی حالت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے کھینچو۔اور پھر بتاؤ۔ان کی کیا حالت ہو گی۔ہر شخص کی ماں، بہن، بیوی، بچے عزیز دوست کوئی نہ کوئی ہوتا ہے۔اور کوئی ایسا شخص نہیں جو آسمان سے گرا ہو جس کے ماں باپ نہ ہوں یا بیوی بچے نہ ہوں یا بہن بھائی نہ ہوں یا اور رشتہ دار نہ ہوں ضرور کوئی نہ کوئی ہر ایک کا رشتہ دار ہوتا ہے مگر افسوس ہے۔بہت کم لوگ ہیں جو دوسروں کی مصیبت اور حالت کا پورا اندازہ کرتے ہیں۔ہاں جب خود ان پر اس قسم کی مصیبت آتی ہے۔تب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کتنی تکلیف کنارنج اور کتنا صدمہ ہوتا ہے۔انہی بے قصوروں کو مارنے والوں کے گھروں میں اگر دو دن کا بچھڑا بھی مر تاتو آسمان سر پر اٹھا لیتے۔مگر ان کو اتنا خیال نہ آیا کہ جنہیں وہ مار رہے ہیں ان کے بھی بہن بھائی ہوں گے۔ان کے بھی بیوی بچے ہوں گے۔ان کے بھی رشتہ دار ہوں گے ان کی کیا حالت ہوگی۔ان کے مارنے سے مسلمان مٹ نہیں گئے۔اور نہ مٹ سکتے ہیں۔اب بھی موجود ہیں۔اور انشاء اللہ ہمیشہ موجود رہیں گے مگر وہ گھر برباد ہو گئے۔وہ خاندان تباہ ہو گئے۔وہ مکان ویران ہو گئے۔وہ بسنے والے اجڑ گئے۔جن پر آفت آئی اور ظالموں اور سفاکوں کے ہاتھوں بلا وجہ اور بغیر قصور آئی۔پس یہ نہایت ہی تاریک فعل ہے۔اور ایسا شرمناک فعل ہے۔جس پر ہر وہ انسان جو شرافت اور انسانیت کی صفات سے خالی نہیں ہو گیا ملامت کرے گا۔اور اظہار نفرت کرنا اپنا فرض سمجھے گا۔شردھانند صاحب کے قتل پر اس لئے کہ جس وقت قتل کیا گیا اس وقت کوئی خاص وجہ پیدا نہ ہوئی تھی تمام مسلمانوں نے اس فعل سے اظہار نفرت کیا۔اور کسی قسم کی ہمدردی اس سے ظاہر نہ کی۔مگر وہاں تو ایک شردھانند قتل ہوا تھا۔یہاں تین ان میں ایک کا اور اضافہ ہو چکا ہے۔جو زخموں کی وجہ سے بعد میں فوت ہو گیا) مارے گئے ہیں۔اور بلاوجہ بلا قصور مارے گئے ہیں۔اب ہم دیکھیں گے کہ ہندو کس طرح ان کے قاتلوں سے اظہار نفرت کرتے اور کیونکران