خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 87

۸۷ سال 1927ء میں دوستوں کو اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ آج جمعہ کی نماز کے بعد انشاء اللہ میں ایک مخلص نوجوان کا جنازہ پڑھاؤں گا چودھری ظہور حسین صاحب بی۔اے جو شملہ میں ملازم تھے۔اور یہاں سے قریب اس ضلع کے ایک گاؤں چودھری والہ کے رہنے والے تھے۔پچھلے دنوں اپنے گاؤں میں فوت ہو گئے ہیں۔ان کا جنازہ پڑھنے والے ان کے بھائی اور ایک آدھ اور احمدی تھے۔علاوہ ازیں وہ اپنی عمر کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ کے مخلص اور ایک امید افزا وجود تھے۔نوجوانوں میں بعض خصوصیتیں ہوتی ہیں۔اور ہماری جماعت کے نوجوان دوسرے نوجوانوں سے اچھے ہوتے ہیں۔ان میں سے جو کمزور اور کمتر درجے کے نوجوان ہیں۔وہ بھی دوسرے نوجوانوں سے اچھے ہوتے ہیں۔لیکن چودھری ظهور حسین صاحب ہماری جماعت کے اچھوں میں بھی فضیلت رکھتے تھے۔گورنمنٹ آف انڈیا میں اچھے عہدہ پر ملازم تھے۔اور ایک ایسے مقام پر رہتے ہوئے جہاں ہر قسم کے آرام اور دنیاوی عزت کے سامان تھے۔وہ اس طرح کی زندگی بسر کرنے سے بیزار تھے۔متواتر دو تین سال سے وہ مجھے خط لکھ رہے تھے کہ اگر اجازت دیں۔تو میں ملازمت چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کرنے میں مصروف ہو جاؤں۔مگر میں نے ان کو اجازت نہ دی کہ شاید وہاں ان کے ذریعے زیادہ فائدہ ہو۔اس طرح گویا ان کی نوکری بھی میرے ہی حکم سے تھی۔کیونکہ میرے حکم سے وہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔علاوہ ازیں ان میں سلسلے کے لئے غیرت تھی۔اور ایسے لوگ جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے۔خواہ کچھ ہو جائے ان کے ایمان میں تزلزل نہیں آسکتا وہ ان میں سے تھے۔اللہ تعالٰی کی کوئی حکمت ہوگی کہ ان کو اٹھالیا۔میں ان کا آج جنازہ پڑھاؤں گا ان کے والد جماعت میں داخل نہیں۔جن کے احمدی ہونے کے متعلق ان کے دل میں بڑی تڑپ تھی۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالٰی ان کو سلسلہ میں داخل کرے۔ان کا ایک بچہ اور شاید دو لڑکیاں ہیں۔ان کے لئے بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو۔(الفضل ۱۰/ مئی ۱۹۲۷ء)