خطبات محمود (جلد 11) — Page 66
خطبات محمود سال 1927ء مگر چونکہ وہ دلیری سے اس برے کام کو کرتے تھے۔اس لئے ان کا یہ برا نعل بھی خوبصورت ہو جاتا تھا۔جب ایک برا کام بھی بہادری اور جرات کے سبب خوبصورت بن جاتا ہے۔تو جو کام خدا کے لئے بہادری سے کیا جائے گا۔وہ کیوں خوبصورت نہ ہو گا۔وہ افعال جن کو فطرت حقارت سے دیکھتی ہے۔اگر وہ بھی بہادری جرات اور دلیری کے ساتھ کئے جائیں۔تو بعض لوگوں کو خوشنما نظر آنے لگتے ہیں پھر اگر خدا تعالیٰ کے لئے کوئی شخص ایسا کرتا ہے۔اور اچھے کاموں کے لئے بہادری دکھاتا ہے۔تو وہ کیوں دنیا میں خوبصورت نظر نہ آئے گا۔اس کے لئے کسی فکر اور سوچ اور کسی قوت واہمہ سے کام لینے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ ایسے لوگ ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔دور کے ایک زمانہ کی بابت قرآن کریم فرماتا ہے۔دو بھائی تھے۔ایک نے ایک کو مارنا چاہا۔اس لئے کہ اس کی قربانی قبول ہوئی۔اور دوسرے کی نہ ہوئی۔جس نے مارنا چاہا اس نے بہادری سے کام نہ لیا۔کیونکہ اس نے اس لئے مارنا چاہا کہ اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی۔لیکن دوسرے نے جس کی قربانی قبول ہو گئی تھی۔بہادری سے کام لیا۔وہ بہادری نہیں جو لوگ وقتی طور پر دکھاتے ہیں۔وہ بہادری بھی نہیں جو کتے اور سور کی طرح بعض انسان دکھاتے ہیں۔بلکہ وہ بہادری جو بچے بہادروں کی ہوتی ہے۔وہ اس سے ظاہر ہوئی۔وہ اپنے دوسرے بھائی کو جو اسے قتل کرنا چاہتا۔کہتا ہے۔تم بے شک مجھے مارد - تم نے اپنا خیال اور اپنی منشاء مجھ پر ظاہر کر دی ہے مگر باوجود اس علم کے میں یہ نہیں کرونگا۔کہ تم کو مار دوں۔دنیا میں یہ طریق ہے کہ اگر کسی شخص کے متعلق معلوم ہو جائے کہ وہ قتل آمادہ ہے۔تو جسے قتل کرنا چاہے وہ اس کے حملہ سے پہلے ہی اسے قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن یہ شخص اپنے بھائی سے کہتا ہے۔تمہارا ارادہ گو مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہو۔لیکن میں تمہیں نہیں مارونگا۔کیونکہ یہ فعل مذموم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ بہادری ایسی پسند آئی کہ ہم نے فیصلہ کر دیا کہ اگر کوئی کسی نیک شخص کو بلا وجہ مارتا ہے تو وہ ایک شخص کا قاتل نہیں سارے جہان کا قاتل ہے۔کیونکہ اس نے نیکی کو ضائع کرنا اور بدی کو پیدا کرنا چاہا ہے تو بہادری بھی نیکی ہے۔وہ دوسرا شخص جو قتل کرنے پر آمادہ ہوا۔بجائے اس کے کہ خدا کا مقبول بننے کی کوشش کر تا قتل کرنے پر آمادہ ہو گیا اور یہ بزدلی ہے۔لیکن دوسرے نے بہادری دکھائی وہ خدا کا اور زیادہ مقبول ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کی بہادری کو پسند کیا۔اور فیصلہ کیا کہ آئندہ جو بھی اس طرح قتل ہو گا۔اس کا قتل دنیا کے قتل کے برابر سمجھا جائے گا۔کیونکہ قاتل صرف اس نیکی کرنے والے کو