خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 538

خطبات محمود ۵۳۸ سال ۱۹۲۸ء میں نے دستخط دیکھے کہ شاید ان میں کوئی بڑا آدمی ہو مگر دستخط بھی ایک لڑکے کے ہی تھے۔یہ تجاویز نہایت ہی معقول ہیں اور ایسی باریک باتیں نکالی گئی ہیں جس طرح کوئی پولیس آفیسر تحقیقات کرتا ہے دستخط کرنے والا اگر چہ پولیس انسپکٹر کا لڑکا ہے مگر وہ خود پولیس انسپکٹر نہیں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ جتنے مشورے باہر سے یا یہاں سے آئے ہیں ان سب سے زیادہ لطیف سکاؤٹس کے مشورے ہیں۔اگر ہمارے طالب علم اس روح سے زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں تو یہ امر ہمارے لئے بہت ٹھنڈک کا موجب ہو گا۔اور میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح انہوں نے تدابیر بتائی ہیں ان پر عمل بھی کریں گے۔میں کوشش کروں گا کہ کارکن کمیٹی ان سب کو قبول کرلے مگر ممکن ہے کوئی قبول نہ ہو سکے لیکن ان کا فرض ہے کہ وہ عملی طور پر ایسا کام کر کے دکھا ئیں جو مفید ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے باتیں کرنے سے کام نہیں ہوتے بلکہ کام کام کرنے سے ہی ہوتے ہیں۔اور ایک مثال دیا کرتے تھے اور اس پر ہنسا بھی کرتے تھے۔فرماتے ایک امیر کے باروچی خانہ میں بہت سے کتے گھسے رہتے تھے۔وہ ایک دن دیکھنے آیا تو اسے پتہ لگا کہ اس طرح بہت نقصان ہوتا ہے نوکروں نے کہا کہ جناب کیا کیا جائے دروازہ نہیں اس لئے کئے آجاتے ہیں۔اس نے کہا یہ تو معمولی بات ہے۔پہلے ہی مجھے اس کے متعلق تم لوگوں نے کیوں نہ بتایا۔آخر اس نے احاطہ بنوا دیا اور دروازہ لگا دیا کتوں کو جب یہ ماجرا معلوم ہوا تو وہ رونے لگے۔ان کو روتے دیکھ کر ایک بڑھا کتا ان کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ تم پر کونسی ایسی مصیبت آئی ہے کہ رو رہے ہو۔انہوں نے بتایا کہ مصیبت ہی مصیبت ہے ہمارا سارا گزارا اس باورچی خانہ پر تھا۔اب یہاں لگ گیا ہے دروازہ ہم کہاں سے کھا ئیں گے۔اس نے کہا بے شک دروازہ تو لگ گیا ہے مگرا سے بند کون کرے گا۔تو اصل بات یہ ہے کہ کام کرنے سے ہی کام چلتا ہے۔پس میں امید کرتا ہوں کہ سکاؤٹس ان تجاویز پر عمل بھی کریں گے اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس سے بہتر کام کر کے دکھائیں گے۔باقی دوستوں سے بھی میں یہی کہوں گا کہ جہاں تک ہو سکے کفایت مد نظر رکھیں۔بعض دوستوں نے ایک اور مشورہ بھی دیا ہے۔میں نے جس سال انتظام کیا تھا اس پر عمل بھی کیا تھا گو اس سے غلط فہمی بھی ہوئی مگر اس پر عمل کرنے سے فائدہ ہوا اور خرچ بھی کم ہوا۔اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک انجمن سے کچھ ایسے کارکن لئے جائیں جو اپنی اپنی جماعتوں کا انتظام کریں۔اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ایک تو یہ کہ وہ لوگ اپنی ضروریات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور اگر کوئی غلطی یا