خطبات محمود (جلد 11) — Page 536
خطبات محمود ۵۳۶ سال ۱۹۲۸ء کرنے سے خرچ بہت کم ہو گیا ہے لیکن بعد میں تعداد اس قدر بڑھ گئی کہ انہیں اس کے اڑانے کی فکر ہوئی۔اور یہ مسئلہ پچھلے سے پچھلے سال مجلس شورٹی میں بھی پیش ہوا۔گو بعض شدت سے اس کے مخالف تھے مگر کثرت رائے اس کے جاری رکھنے کے حق میں تھی۔اس پر میں نے اس کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔اور کہا کہ اس سال تجربہ کر کے اس انتظام کو دیکھ لیا جائے۔اگر آرام رہا تو بہتر ورنہ اگلے سال یہ تجویز پھر پیش ہو جائے گی۔چنانچہ یہ طریق قائم رہا۔اور چونکہ میں ایسے فیصلہ کو توڑنا پسند نہیں کرتا جو جماعت نے کیا ہو سوائے کسی خاص مجبوری کے اس لئے اسے جاری ہی رہنا چاہئے۔جب ہم سینکڑوں ہزاروں میلوں سے جماعت کے نمائندوں کو بلاتے ہیں تاکہ متحدہ فیصلہ کیا جا سکے تو پھر اگر اس فیصلہ کو بلا وجہ توڑ دیا جائے تو یہ بات چنداں پسندیدہ نہیں اور اس کا لازمی نتیجہ اس قسم کی استبدادیت ہو گا جو اسلام میں جائز نہیں۔اسلام نے مشورہ کا حکم دیا ہے اور اس مشورہ کے احترام کا حکم بھی دیا ہے۔گو خلیفہ کو اختیار دیا ہے کہ وہ مفاد سلسلہ کے لئے کثرت کے فیصلہ کو بھی مسترد کر سکتا ہے مگر جہاں تک ممکن ہو اس کی پابندی اور جماعت کے مشترکہ فیصلہ کے احترام کا حکم دیا ہے۔پس اس کو اڑانے کے لئے یہ مشکل درمیان میں ہے۔مگر اب ایسی شکایات بھی پہنچی ہیں کہ اس سے خرچ زیادہ ہو گیا ہے اور اگر یہ شکایت صحیح ہے تو اس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔خصوصاً اس سال جب کہ قحط پڑا ہوا ہے اور ممکن ہے اس سال خرچ بڑھ جائے۔پس اس سال اخراجات میں تخفیف کا سوال اور جماعت کے مشورہ کا احترام میرے مد نظر ہیں اس لئے میرا خیال ہے کہ کوئی اپنی تدبیر سوچنی چاہئے جس سے کوئی ایسا درمیانی رستہ مل سکے۔جس سے کثرت رائے کا فیصلہ بھی مسترد نہ ہو اور خرچ میں بھی کمی ہو سکے۔اس میں شبہ نہیں کہ خدا تعالٰی نے مجھے فیصلہ کے مسترد کرنے کا بھی اختیار دیا ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں کوئی ایسی اہم ضرورت در پیش نہیں کہ میں اسے رو کروں اور اگر ایسی تدابیر اختیار کرلی جائیں جن سے مشورہ کا احترام بھی قائم رہے اور خرچ بھی کم ہو تو یہ طریق بہت بہتر ہے۔چونکہ دوستوں سے مشورہ مانگا گیا تھا اور میں نے اسے قبول بھی کر لیا تھا۔اس لئے اسے بدلنے سے پہلے ضرروی ہے کہ اسے دوبارہ شورٹی میں پیش کیا جائے۔یہ ایک بات ہے جو میں جلسہ کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔دوسری بات جسے عام طور پر دوستوں نے پیش کیا ہے ایسی ہے کہ مجھے حیرت ہوتی ہے اس پر پہلے کیوں توجہ نہیں کی گئی جلسہ میں سب سے زیادہ خرچ آئے کا ہوتا ہے کیونکہ یہاں پر کھانا