خطبات محمود (جلد 11) — Page 531
خطبات محمود ۵۳۱ سال ۱۹۴۸ء یعنی عرش کے مالک سے یہ امید نہ رکھو کہ وہ رزق میں کمی کر دے گا جلسہ کے دو دن رکھنا خدا تعالی پر بدظنی ہے۔جب میں نے یہ پڑھا تو مجھے اس بات میں بہت لطف آیا اور میں سمجھا کہ حقیقی تو کل یہی ہے کہ جب انسان یہ سمجھے یہ کام خدا کی طرف سے ہے اور اسے کرنے کا حکم اس نے دیا ہے تو پھر یہ خیال کرنا کہ اس کی سر انجام دہی کے لئے ایثار اور قربانیاں کرنے سے ہم ضائع ہو جائیں گے بیوقوفی کی بات ہے۔اگر کسی رستہ پر چلنے سے انسان برباد ہو جائے تو یہ بات یقیناً اس رستہ کے غلط ہونے کی علامت ہے۔افراد کا مالی لحاظ سے کمزور ہو جانا معمولی بات ہے۔یہ بات ہر قوم میں پائی جاتی ہے لیکن مِنْ حَيْثُ القَومِ قربانیوں سے تباہ ہو جانا اس رستہ کے جھوٹے ہونے کی نشانی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ یہ دن اس قسم کے ہیں کہ ہر طرف مالی تنگی کے آثار نظر آرہے ہیں اور زمینداروں کی حالت تو بہت ہی تکلیف دہ ہے۔ان کی دو فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔گورنمنٹ اگر چہ نقادی وغیرہ تو پہلے بھی تقسیم کیا کرتی تھی مگر مجھے یاد نہیں کہ آج تک کبھی ایسا ہوا کہ گورنمنٹ نے تمام لگان اراضی معاف کر دیا ہو۔کسی ایک گاؤں وغیرہ میں معاف کر دینا علیحدہ بات ہے لیکن بہت بڑے علاقہ میں کبھی معاف نہیں کیا تھا لیکن اس سال گورنمنٹ نے چالیس لاکھ روپیہ معاف کر دیا ہے اور نقادی وغیرہ کے اخراجات ملا کر پچھتر لاکھ روپیہ زمینداروں پر صرف کیا ہے اور صوبجات آگرہ واودھ کی حکومت نے ایک کروڑ دس لاکھ اس مد میں خرچ کیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال زمینداروں کی تباہی غیر معمولی تباہی ہے اور ضروری ہے کہ اس تباہی کا اثر دوسرے لوگوں پر بھی پڑے۔وکیل ، ڈاکٹر کلرک ہر ایک اس سے متاثر ہو گا کیونکہ کھانا سب کے لئے ضروری ہے۔زمینداروں کی فصل تباہ ہونے سے غلہ نہیں ہوا اور لازماً جس کا گزارہ پہلے دس روپیہ میں ہو جاتا تھا اب اس کا گزارہ بارہ تیرہ روپیہ میں ہو گا مگر باوجود اس کے وہی بات ہے کہ جو کام کرتا ہے وہ کرتا ہی ہے۔جب انسان خدا تعالی کے رستہ میں تکلیف اٹھائے تو خدا تعالیٰ اس کی تکالیف دور کرنے کے سامان خود پیدا کر دیتا ہے۔یہی دلیل تھی جو حضرت خلیفہ اول نے مجھے لکھی۔فرمایا میری طرف سے اعلان کر دو کہ صدقہ خدا تعالی کے غضب کو دور کر دیتا ہے اس تکلیف کا تو علاج ہی صدقہ تھا مگر تم نے اس کا الٹ کیا کہ جلسے کے لئے دو دن کر دیئے۔یاد رکھنا چاہئے کہ تباہی کے اسباب میں سے ایک پہلو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا بھی ہوتا ہے۔