خطبات محمود (جلد 11) — Page 465
خطبات محمود ۴۶۵ سال ۱۹۲۸ء کہ کھٹکھٹاؤ تمہارے لئے کھولا جائے گا صرف دستک دینے کی ضرورت ہے خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے انسان پر کھل جاتے ہیں اور بغیر مجاہدات کے کھل جاتے ہیں۔اس کی یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بند دروازہ کو کھول دیا اور ہمیں خدا کا قرب حاصل کرنے کا صحیح راستہ بتا دیا۔پہلے لوگ چونکہ اس دروازہ سے ناواقف تھے اس لئے وہ سرگرداں پھرتے تھے۔ہم چونکہ اصلی دروازہ کو کھٹکٹاتے ہیں اس لئے وہ ہمارے لئے جلد کھل جاتا ہے۔لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ ہماری جماعت نے اس نعمت کو جو خدا کے فضل اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے عطا ہوئی دنیا تک پہنچانے کے لئے کیا کوشش کی ہے۔میں نے جماعت کو متواتر توجہ دلائی ہے لیکن افسوس اب تک دوستوں میں وہ بیداری پیدا نہیں ہوئی جس کی اس کام کے لئے ضرورت ہے۔قرآن کریم میں خداتعالی فرماتا ہے جب قیامت کے دن مؤمن کو اس کی کتاب دی جائے گی تو کہے گا۔مَاؤُمُ اقْرَهُ وا كتبية لوگو روڈو دیکھو میری کتاب میں کیا لکھا ہے آؤ اور میری نجات کی خوشخبری کی خوشی میں تم بھی میرے ساتھ شریک ہو جاؤ۔جب ایک مومن جسے اس کی اپنی نجات کی خبر دی جائے گی وہ شور مچائے گا اور سب لوگوں کو اس خوشی میں شریک کرنے کی کوشش کرے گا تو ہمیں ساری دنیا کی نجات کی خبر دی جائے اور ہم خاموش بیٹھے رہیں تو یہ کس قدر افسوس کی بات ہے۔بے شک ایک انسان کا نجات پا جانا بھی بڑی بات ہے اور خوشی کا موجب ہے لیکن ساری دنیا کے مقابلہ میں اس کی کیا حقیقت ہے۔دیکھو انبیاء علیہم السلام دنیا کو آرام پہنچانے کے لئے اپنا آرام ترک کر دیتے ہیں اس لئے کہ لوگ مصیبت سے بچ جائیں۔وہ طرح طرح کی مشقتیں برداشت کرتے ہیں اور لوگوں کو تباہی سے بچانے کے لئے دن رات ایک کر دیتے ہیں۔پھر جب وہ زندگی جو سب سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے لوگوں کے لئے قربان کر دی جاتی ہے تو دوسرے لوگوں کی زندگیوں کی ان کے مقابلہ میں حقیقت ہی کیا ہے۔لیکن اگر ایک ایسا انسان جس کی زندگی کچھ حقیقت ہی نہیں رکھتی خوشخبری سن کر شور مچا دیتا ہے تو جس سلسلہ کو دنیا کی نجات کا راستہ بتایا گیا ہو اس کے لئے کس قدر کوشش اور شور مچانے کی ضرورت ہے۔یقینا انبیاء کے زمانہ میں لوگ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں۔خدا تعالی فرماتا ہے کہ جب دنیا مایوس ہو چکی ہوتی ہے تو ہم بارش نازل کرتے ہیں اسی طرح انبیاء بھی دنیا میں اسی وقت آتے ہیں جب دنیا پر یاس اور نا امیدی چھائی ہوتی ہے اور ان