خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 464

لم سالم سال ۴۱۹۲۸ ہو جائیں۔گو عارضی اور درمیانی ضرورتیں بھی اس میں آجائیں گی لیکن اس کا حقیقی مقصود اللہ کا قرب ہی ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس مقصد کا راستہ ہمارے لئے کھولا گیا ہے اور آپ نے اس مقصود کو ہم سے بہت قریب کر دیا ہے۔اگر ایک انسان کی کوشش، محنت اور تقویٰ دوسرے کے کام آسکتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اصل مقصود ہمیں مل گیا لیکن یہ خدا کی سنت نہیں کہ کسی کی محنت دوسرے کے لئے کافی ہو سکے۔پس گو ہمارے واسطے یہ دروازہ کھول دیا گیا ہے اور راستہ بہت چھوٹا کر دیا گیا ہے مگر پھر بھی خود کو شش کرنے کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔اس کی طرف حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے:- اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے تو اپنی خودی سے انکار کرے اور اپنی صلیب اٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے۔کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے اسے کھوئے گا یے (متی باب ۱۶ آیت (۲۴) پس جب تک انسان خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنے آپ کو طرح طرح کی مشکلات میں نہ ڈالے خدا تعالی کو نہیں پاسکتا۔گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالی تک پہنچنے کا دروازہ کھول دیا ہے پھر بھی مصائب اٹھانے اور تکالیف سے گذرنے کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جسے حضرت مسیح اول نے اپنی صلیب آپ اٹھانے سے تعبیر کیا اور جس کا نام قرآن کریم میں مجاہدہ یا ابتلاء رکھا گیا ہے۔پس جب تک انسان ان دروازوں سے نہ گذرے منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔ہم سے پہلے لوگ اس راستہ اور اس دروازہ کو ڈھونڈتے تھے اور اس کی تلاش میں سرگرداں تھے ، وہ اس کے لئے وظائف کرتے اور راتوں جاگتے تھے، وہ چھ چھ ماہ اور سال سال بھر بلکہ دو دو تین تین سال تک متواتر روزے رکھتے تھے اور بعض تو چھ چھ ماہ کا ایک روزہ رکھتے تھے صرف چلو بھر پانی اور چند دانے جو پر گزارہ کرتے تھے لیکن پھر بھی وہ خدا کو نہیں پاسکتے تھے بلکہ بسا اوقات یا تو پاگل ہو جاتے تھے یا مسلول ہو کر مرجاتے تھے۔ان روزوں کے بعد وہ نہ تو دین کے کام کے رہتے تھے نہ دنیا کے لیکن باوجود اتنے سخت مجاہدہ اور اپنی جان کو ضائع کر دینے کے وہ خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتے تھے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ آیا اور اب آپ کے طفیل یہ حالت ہے کہ لوگ کھاتے پیتے اور آرام سے گھروں میں رہتے ہیں اور بغیر کسی مالا طاق تکلیف اٹھانے کے صرف تھوڑی سی توجہ اور ریاضت سے خدا کو پالیتے ہیں۔گویا اب یہ مثال ہو گئی ہے