خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 462

خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ وہ کس قدر خوش ہو گا۔لیکن قرآن اس سے بڑھ کر تخت پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے عَلی سُور متقبلينَ (الصفت : (۴۵) وہ ایسے بادشاہ نہیں بناتا جن پر ہر وقت یہ خوف طاری رہتا ہے کہ کب کوئی حریف حملہ کر دے بلکہ ایسے بادشاہ بناتا ہے جو بھائی بھائی کی طرح آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔پھر قرآن کے متعلق آتا ہے کہ جو اسے یاد کرے گا یا کرائے گا اسے قیامت کے دن تاج ملے گا یعنی اسے بادشاہ بنایا جائے گا۔اگر دنیا کی چھوٹی چھوٹی بادشاہتوں کے لئے اس قدر خواہش کی جاتی ہے تو اس بادشاہت کے لئے جو خدا کی طرف سے عطا ہو گی اور جو لازوال ہو گی جس میں کوئی خطرہ نہیں اس کے لئے کتنی کوشش کرنی چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ جماعت میں تبلیغ کا جوش ایسا نہیں جیسا ہونا چاہئے۔بعض دوست تو ایسے ہیں جو دوسرے لوگوں سے ملتے ہی نہیں اور فرصت کے اوقات گھر میں بیٹھ کر بسر کر دیتے ہیں۔اور بعض ایسے ہیں کہ جو ملتے تو ہیں مگر ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع کر دیتے ہیں۔اور بعض اگر تبلیغ کرتے بھی ہیں تو اس جنون سے نہیں جس کی تبلیغ کے لئے ضرورت ہے۔پس ایسا جنون پیدا کرد کہ ہر وقت تمہارے سامنے تبلیغ کا مقصد رہے۔جب تک کسی قوم کے لوگوں کو مجنون کا خطاب نہ ملے وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ وہ خطاب ہے جو سب نبیوں کو دیا گیا اور انبیاء کے بچے پیروؤں کو بھی تبلیغ میں وہی سرگرمی دکھانی چاہئے کہ لوگ انہیں مجنون کہنے لگ جائیں۔پس ہماری جماعت کو بھی اس جنون سے تبلیغ کرنی چاہئے کہ اسلام کی فتح کا وہ زمانہ جس کے لئے ہم بیتاب ہیں اور جس کے لئے ہمارے آباء واجداد بھی ترستے گئے ہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ه ترمذی ابواب الطب باب ما جاء في العسل الفضل ۷ / ستمبر ۱۹۲۸ء)