خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 39

خطبات محمود ۳۹ سال 1927ء - جماعت احمدیہ کے لئے بھی ہے وہ بھی اس پر غور کرے۔میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے پڑھا کرتا تھا تو پڑھتے ہوئے کئی مقام ایسے آجاتے کہ میں کچھ دریافت کرنا چاہتا۔مگر آپ فرماتے کہ ”میاں چلو آگے چلو آپ ہی سمجھ لینا" آپ کی اس بات کا یہ مطلب ہو تا کہ انسان اپنے آپ غور کرنے سے جو بات حاصل کر سکتا ہے وہ دوسرے کے بتانے سے حاصل نہیں کر سکتا۔میں نے اس طریق سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔اس وقت میں بھی حضرت خلیفہ بیع الاول کے طریق کے مطابق کہتا ہوں کہ آپ ہی اس پر غور کرو اور سوچو۔خود سوچنے اور غور کرنے سے تمہیں بہت سی باتیں حاصل ہوں گی جو صحیح نتائج پر پہنچانے والی ہونگی۔اور اس بات کی حقیقت کو کھول دیں گی کہ کیوں نماز سے فائدے حاصل نہیں ہوتے جو اس کے بتائے گئے ہیں اور جو آنحضرت اللہ کے وقت میں ظاہر ہوتے تھے۔میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ اگلے جمعہ اپنے خیالات اس کے متعلق ظاہر کرونگا۔لیکن اسی قدر جس قدر کہ خطبہ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔خطبہ بہت لمبا نہیں کیا جا سکتا۔اس کی ایک وجہ وقت کی قلت بھی ہے۔اور کچھ جمعے میں شامل ہونے والے لوگوں کا لحاظ بھی۔پس وقت کے لحاظ سے جس قدر کہا جا سکے گا۔انشاء اللہ تعالٰی اگلے جمعے کے دن کہوں گا۔خطبہ میں انسان پوری باتیں بیان نہیں کر سکتا۔اس لئے میں بعض ضروری باتیں اس کے متعلق بیان کروں گا۔یعنی آپ کو بھی چاہئے کہ اپنے طور پر اس پر ضرور غور کریں۔اور سوچیں کہ نماز کے فوائد حاصل نہ ہونے کی وجہ کیا ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالٰی ہمیں اپنا کلام سمجھنے کی توفیق دے اور فہم عطا فرمائے تاہم اس کی باتوں اور اس کی منشاء کو سمجھنے والے ہوں۔پھر ہمیں یہ توفیق بھی دے کہ ہم اس کے کلام کے مطابق اپنے عملوں کو بنا سکیں تا ہمیں وہ فوائد مل سکیں جو اس کے کلام کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے مل سکتے ہیں۔آمین۔له البقرة: 19 کے بخاری کتاب التفسير - تغییر سوره الاحقاف الفضل یکم مارچ ۱۹۲۷ء)