خطبات محمود (جلد 11) — Page 440
خطبات محمود ۴۴۰ سال ۱۹۲۸ء سی خراب چیز مل جانے سے سارا کھانا خراب ہو جاتا ہے۔جس طرح بہت سے دودھ کو پیشاب کا ایک قطرہ خراب کر دیتا ہے اسی طرح خدا تعالٰی کے کلام کے ساتھ بے ہودہ انسانی کلام ملانے سے حقیقت چھپ جاتی ہے۔ان دو باتوں کی طرف جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں اگر مسلمان توجہ کریں تو ترقی کر سکتے ہیں۔ہم اپنے رستہ میں دیکھتے ہیں قرآن کبھی روک نہیں بنا جو چیز روک بنتی ہے وہ یہی ہے کہ فلاں نے یہ لکھا ہے اور فلاں نے یہ - ہمارا خیال ہے اور خیال ہی نہیں اپنا تجربہ ہے کہ اگر مسلمان قرآن کریم پر غور کریں تو یقینا اس نقطہ پر آسکتے ہیں جہاں خدا مل جاتا ہے۔خدا تعالٰی ہمیں قرآن کریم سمجھنے کی توفیق دے اور اَدْعُوا الی اللہ میں جو مقصد بتایا گیا ہے اور جو خدا تعالی سے محبت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اسے پورا کریں۔ہم قرآن کو اندھا دھند نہ مانیں تاکہ ہمارے افعال بھی اسی طرح ورثہ کے نہ ہوں جیسے عیسائیوں اور یہودیوں کے ہیں۔ا الناس : ۲ تا ۷ ۲ - الفلق : ۲ الفضل ۱۱ / اگست ۱۹۲۸ء) عمر فاروق اعظم مصنفہ محمد حسین ہیکل مترجم حبیب اشعر صفحه ۳۰۱-۳۰۲، مطبوعہ مکتبہ جدید (میکلوڈ روڈ) لاہور۔