خطبات محمود (جلد 11) — Page 439
خطبات محمود وم سال ۱۹۲۸ء اس بات کو بیان کرنے کے لئے زیادہ تفصیل کی ضرورت ہے لیکن اس خطبہ سے دور چلا جاؤں گا اگر میں اس تفصیل کو بیان کروں۔ہاں اتنا بتا دیتا ہوں کہ ہم میں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں میں یہ فرق ہے کہ انہوں نے خدا تعالٰی تک پہنچنے کے رستہ میں دربان مقرر کئے ہوئے ہیں۔وہ کہتے ہیں ان سے ٹکٹ حاصل کرو تو آگے جا سکتے ہو مگر اسلام یہ کہتا ہے کہ خدا تعالی تک پہنچنے کا ہر ایک کے لئے دروازہ کھلا ہے اور رسول ﷺ کا کام یہ ہے کہ بھولے بھٹکوں کو پکڑ پکڑ کر اس دروازہ کی طرف لائے۔یہ ہے نبوت کے متعلق اسلامی تعلیم اور یہ ہے اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق۔تو باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں میں اور میری جماعت بصیرت پر قائم ہیں اس زمانہ کے علماء مسلمانوں کو پرانے لوگوں کے افکار و حوادث کا ان کے خیالات کا اور ان کی روایات کا غلام بنائے رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔پھر مسلمانوں کی روایات کا ہی نہیں یہودیوں اور عیسائیوں کی روایات کا بھی غلام بنا رکھا ہے۔خدا کے نبیوں اور فرشتوں کے متعلق یہودیوں اور عیسائیوں کی روایات کی بناء پر ایسی ایسی باتیں تفسیروں میں لکھی ہیں جن کو کوئی شریف انسان پڑھ بھی نہیں سکتا مگر ان کے متعلق کہتے ہیں مسلمانوں کو ماننی چاہئیں کیونکہ تفسیروں میں لکھی ہیں۔فرشتے جن کے متعلق خدا تعالٰی فرماتا ہے۔يَفْعَلُونَ مَا يُو مَرُونَ (النحل : ۵۱) جو کچھ انہیں کہا جائے وہی کرتے ہیں اس کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ان کی نسبت لکھا ہے کہ آسمان سے آدمی بن کر اترے تھے اور ایک کنچنی پر عاشق ہو گئے تھے اب بابل میں لٹکے ہوئے ہیں۔یہودیوں کی کئی کتابوں میں لکھا ہے کہ فرشتے بھی گناہ کر سکتے ہیں مسلمانوں میں تو یہ جائز نہیں۔اسی طرح عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کے سوا کوئی انسان پاک نہیں اس وجہ سے انہوں نے ایسی روایتیں گھڑ لیں جن میں سب انبیاء کو گناہ گار ٹھہرایا گیا ان کو مسلمانوں نے لے کر کہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر الزام لگا دیا کہیں اور انبیاء پر حتی کہ رسول کریم کی ذات پاک پر الزام لگانے سے بھی باز نہ آئے۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ دوسرا گر بتایا تھا مگر اس کی طرف بھی انہوں نے توجہ نہ کی۔بہت کم مسلمان ہوں گے جو قرآن کریم پر غور اور تدبر کرتے ہوں گے۔اگر مسلمان قرآن کریم پر تدبر کریں تو انہیں ایسی باتیں معلوم ہو جائیں کہ جن کے ذریعہ وہ ترقی کر سکتے ہیں بشرطیکہ پرانی اور غلط اور بے ہودہ روایات کے ماتحت غور نہ کریں۔جس طرح عمدہ کھانے میں تھوڑی