خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 386

خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء کے سامان پیدا ہو جائیں گے۔اور دوسری طرف عیسائیوں کے لئے یہ سامان کیا جائے گا کہ وہ آپس میں ہی لڑ کر تباہ ہوں گے۔ملکی فسادوں اور رعایا کی شورشوں سے ان کا تنزل ہو گا۔چنانچہ اس کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔وہی سٹرائیکس (Stricks) جن کے متعلق کہتے تھے کہ ان کے کرنے کا لوگوں کو حق ہے وہی ان کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔وہ کہتے تھے عورتوں پر کیوں کسی قسم کی پابندی عائد کی جائے ان کو ہر طرح آزادی دینی چاہئے اب وہی حد سے بڑھی ہوئی آزادی تباہی کا باعث بن رہی ہے۔غرض انہوں نے تقویٰ کو چھوڑ کر محبت کو بہت وسیع کر دیا اور وہی ان کی تباہی کا موجب بن گئی۔پس غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں یہ بتایا گیا کہ ایک قوم ہوگی جو غیروں کے حملوں سے تباہ ہو گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور دوسری قوم جو مال ہوگی اس کے اندر سے اس کی تباہی کے سامان پیدا ہوں گے یہ بھی پیدا ہو چکے ہیں۔یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی ہے۔اور اس کا فائدہ یہ ہے جو قرآن نے ہی بیان کر دیا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیم جو کامیاب ہونا چاہتے ہیں وہ اس طریق پر چلیں کہ نہ تو وہ دو سروں پر غضب کریں اور انہیں پینے اور کچلنے لگ جائیں اور نہ ہی ان میں یہ مادہ پیدا ہو کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی ناجائز محبت میں پڑ جائیں۔ہر ناجائز محبت میں دوسروں کا حق تلف ہوتا ہے۔ایک کے ساتھ اگر کوئی ناجائز رعایت کی جائے تو اس میں کسی اور کی ضرور حق تلفی ہوتی ہے کیونکہ انسان میں یہ تو قدرت نہیں ہے کہ کوئی نئی چیز پیدا کر کے کسی کو دے سکے۔یہ خدا تعالی ہی کی صفت ہے اور خدا تعالٰی نے جو کچھ پیدا کیا ہوتا ہے اس پر کسی نہ کسی کا حق ہوتا ہے پس اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ نہ تو تم غضب سے کام لو ورنہ تم پر بھی غضب کیا جائے گا اور نہ کسی کی ناجائز رعایت کرد ورنہ وہی رعایت الٹ کر تم پر پڑے گی اور تمہاری تباہی کا موجب ہو جائے گی۔بلکہ درمیانی رستہ اختیار کرو۔وہ درمیانی رستہ وہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں بتایا گیا ہے اور جسے مؤمن ہر روز کئی بار پڑھتا ہے۔مگر افسوس ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی ہماری جماعت کے لوگوں کو توفیق دے کہ ان کی طبائع قرآن کریم کے ماتحت ہوں۔وہ محبت میں بھی حد سے نہ بڑھیں اور غضب میں بھی حد سے نہ بڑھیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے درمیانی رستہ پر چلنے والے ہوں۔الفضل ۱۸/ مئی ۱۹۲۸)