خطبات محمود (جلد 11) — Page 383
خطبات محمود PAP سال ۶۱۹۲۸ حجت ہو گا۔تو انجیل میں آتا ہے حضرت مسیح کہتے ہیں خدا تعالی کے گا:- اے ملعونوا میرے سامنے سے اس ہمیشہ کی آگ میں چلے جاؤ جو ابلیس اور اس کے فرشتوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔کیونکہ میں بھوکا تھا۔تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔پیاسا تھا۔تم نے مجھے پانی نہ پلایا۔پر دیسی تھا۔تم نے مجھے گھر میں نہ اتارا - نگا تھا۔تم نے مجھے کپڑا نہ پہنایا۔بیمار اور قید میں تھا۔تم نے میری خبر نہ لی۔تب وہ بھی جواب میں کہیں گے۔اے خداوند ہم نے کب تجھے بھو کا یا پیا سایا پردیسی یا ننگا یا بیمار یا قید میں دیکھ کر تیری خدمت نہ کی۔اس وقت وہ ان سے جواب میں کہے گا میں تم سے سچ کہتا ہوں۔چونکہ تم نے ان سب چھوٹوں میں سے کسی ایک کے ساتھ یہ نہ کیا اس لئے میرے ساتھ نہ کیا۔گویا جو سلوک دنیا میں لوگوں سے انہوں نے کیا ہوگا ویسا ہی خدا ان سے کرے گا اور قیامت کے دن پر کیا موقوف ہے اس دنیا میں ہی کرتا ہے۔پس انسان کے اعمال کا ادھر تو یہ اثر ہوتا ہے کہ جو لوگ اس کے زیر اثر ہوتے ہیں وہ وہی باتیں سیکھ لیتے ہیں حالانکہ کوئی یہ نہیں چاہتا کہ جو برے اعمال وہ کرتا ہو وہ اس کی اولاد سیکھ لے۔چور خود چوری کرتے ہیں مگر ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کی اولاد چوری نہ کرے۔ڈاکو خود ڈاکے ڈالتے ہیں مگر کبھی نہیں سنا کہ وہ اپنے بیٹوں کو اس کام میں شامل کریں۔وہ اوروں کو اپنے ساتھی بناتے اور اس فعل پر مائل کرتے ہیں مگر اپنی اولاد کے متعلق یہی چاہتے ہیں کہ وہ ایسا نہ کرے گو یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کی خرابی کی وجہ سے خود ایسے کاموں میں شامل ہو جائیں۔تو بچے خود بخود ماں باپ کی باتوں کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ تو انسانی اعمال کا اثر نچلے لوگوں پر ہوتا ہے اور جو اوپر والی ہستی ہے اس پر یہ اثر ہوتا ہے کہ جیسا کوئی لوگوں سے معاملہ کرتا ہے ویسا ہی خدا اس سے معاملہ کرتا ہے۔یہ مت خیال کرو کہ بعض جو اخلاقی جرم ہیں ان کے معاملہ میں خدا کیا سلوک کرتا ہے مثلا چور چوری کرتا ہے اس کے متعلق خدا کیا کرے گا؟ یہ ٹھیک ہے کہ خدا ایسے افعال کا مرتکب نہیں ہو تا مگر ہر اخلاقی جرم کے مقابلہ میں اخلاقی سزا ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ چور سے معاملہ کرتے ہوئے چوری تو نہ کرے گا لیکن اسے یہ سزا دے گا کہ اس کا مال و اسباب غیر معلوم طور پر ضائع ہو تا چلا جائے گا اور اس میں برکت نہیں ہو گی۔حضرت خلیفہ اول اپنے وطن کی ایک عورت کا ذکر کرتے کہ اس کا خاوند باہر ملازمت پر تھا اور اس کے پاس کافی زیور تھا۔ایک ہزار