خطبات محمود (جلد 11) — Page 30
خطبات محمود سال 1927ء ہوتے ہیں۔باقی کوئی بھی اس کا بندہ نہ بنتا۔مگر یہ تو اللہ تعالیٰ کے رحم کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ رحم کرنے والی ہستی ہے وہ منبع فیوض ہے۔یہ ممکن نہیں کہ ایک طرف وہ رحمت کا دروازہ کھول دے اور دوسری طرف وہ دروازہ بند کر دے۔وہ جب آواز دیتا ہے کہ آؤ میرے بندو میری طرف سے تمہارے لئے دستر خوان بچھا ہے۔تو واقعی دستر خوان بچھا ہوتا ہے۔پس خدا تعالیٰ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کے حضور یہ اقرار کریں کہ وہ باتیں جن کا کرنا ہمارے لئے ضروری ہے اور وہ ہمارے اختیار میں ہیں ان کو عمل میں لائیں گے۔اور جن باتوں سے بچنا ضروری ہے ان سے بچیں گے۔اختیار کے معنے یہ ہیں کہ ان باتوں سے جن سے موجودہ صورت میں ہم بچ سکتے ہیں بچیں اور جو کام کر سکتے ہوں وہ کریں۔پس خدا تعالیٰ کا عہد بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس کو مار دے۔اس کے دل سے اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھے۔وہ اپنے نفس کو درمیان سے اڑا دے تب اس کی کمزوریوں اور مجبوریوں کو خدا بھی کمزوری اور مجبوری قرار دے گا۔کوئی مردہ چیز اپنے آپ کو خود زندہ نہیں کر سکتی۔جب خدا تعالیٰ ہم سے موت چاہتا ہے اور ہم اپنے اوپر موت وارد کر لیتے ہیں۔تو پھر ہم مُردہ ہو کر خود کیسے زندہ ہو سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ہمارے موت قبول کر لینے کے بعد ہمیں دوبارہ ایک نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ہم خود تمام عیبوں سے یک لخت پاک نہیں ہو سکتے۔بلکہ ہمارے اپنے آپ کو اس کے سامنے مردہ کی طرح ڈال دینے کے بعد وہ آپ ہمیں پاک کرتا ہے یہی ایک نکتہ ہے جو تصوف کی جان اور روحانیت کا مرکز ہے۔پس تم یہ مت خیال کرد کہ ہم میں کمزوریاں ہیں۔پھر ہم کیسے پاک ہو سکتے ہیں اور کس طرح خدا کے بندے بن سکتے ہیں۔تم باوجود کمزوریوں اور عیبوں کے حقیقی معنوں میں اپنی طرف سے موت قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں کہ تم پہلے پاک ہو جاؤ۔اور پھر ہماری طرف آؤ۔بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ تم اس کے سامنے اپنے آپ کو گرادو - اس کے خلاف تمہاری زبان بولنے سے بند ہو جائے۔تمہارے ہاتھ اس کے نشاء کے خلاف کام کرنے سے ہٹ جائیں۔تمہارے پاؤں اس کے خلاف چلنے سے رک جائیں۔فرض تمہاری تمام حسیں مر جائیں۔اور خدا تعالی کی آواز کے خلاف کوئی آواز تمہاری طرف سے نہ اٹھے اور بالکل خدا کے سامنے اپنے آپ کو ڈال دو۔تب اللہ تعالٰی تمہارے اندر نئی طاقتیں پیدا کرے گا۔اور تم مُردہ ہونے کے بعد ایک نئی زندگی پاؤ گے۔وہ بندہ جو خدا تعالیٰ کے لئے اپنے آپ کو مار دیتا ہے۔خدا اسے آپ زندہ کرتا اور اسے خود زینت دیتا اور