خطبات محمود (جلد 11) — Page 338
خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ ہے۔اگر وہ ایک شخص کو چھوڑتا ہے تو دوسرے کہتے ہیں ہم مارے جائیں گے۔اس صورت میں اس کی صفت قہار ہی غالب آئے گی اس لئے وہ اس کو نہیں چھوڑتا۔تو خدا نے یہ کہیں نہیں کہا کہ میری ایک ہی صنعت سے مانگو۔اگر وہ کہتا کہ اُدعُ الرحمن تو شاید بہت ہی کم دعائیں رد کی جاتیں مگر اس آیت میں کوئی استثناء نہیں۔لفظ عَنِّی ہے۔جس میں اس کی تمام صفات کا ذکر ہے۔پس جو دعا قبول نہیں ہوتی سمجھ لو کہ وہ خدا کی صفات کے مطابق نہیں خدا کی صفات کی مثال جیوری کی ہے اور جیوری کے ایک ممبر کی رائے پر کبھی فیصلہ نہیں ہوا کرتا بلکہ تمام ممبروں کی رائے کا خیال رکھا جاتا ہے۔پس جو دعا جمیع صفات والے خدا کے سامنے پیش ہو وہ کبھی رد نہیں کی جاتی۔یعنی جو دعا اس کی تمام صفات کے مطابق ہو گی اور ان کو آپس میں ٹکرانہ دے گی وہ ضرور قبول کی جائے گی۔پس وہ لوگ پاگل ہیں اور نادان ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوتی۔دعا ضرور قبول ہوتی ہے مگر دعا ایسی ہونی چاہئے جو خدا کے شایان شان اور اس کی صفات کے مطابق ہو۔بعض عورتیں میرے پاس آتی ہیں کہ فلاں نے میری بچے کو بد دعا دی ہے اب کیا ہو گا۔میں کہتا ہوں یہ بد دعا کس کے سامنے پیش ہو گی شیطان کے پیش تو نہیں ہو گی۔خدا تعالی کے ہی پیش ہو گی اور وہ یقیناً اس کو رد کر دے گا۔پس ان ایام میں دعاؤں پر خاص زور دینا چاہئے اور ان دنوں سے خاص فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کو بھی دعاؤں سے خاص تعلق ہے۔رسول کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ میں نے اس کے بالوں سے اس طرح پانی ٹپکتا دیکھا ہے جیسے کوئی حمام سے غسل کر کے نکلے اس میں اسی کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دعاؤں میں سخت مجاہدہ کرنے والا ہو گا۔بخاری کتاب فضائل القرآن - باب كان جبريل - عرض القرآن على النبي - مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ باب استحباب الذكر بعد الصلوة وبيان صفته - کر کے " الفضل ۲۳ / مارچ ۱۹۲۸ء) رہو ریز " " 4 رر موسم ، بخاری کتاب الانبیاء باب قوله واذكر في الكتب مريم اذا تبذت۔۔۔