خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 328

خطبات محمود ނ ۳۲۸ سال ۶۱۹۲۸ روزہ فرض ہو گا مگر اس سے پہلے بھی کبھی کبھار روزے رکھوانے چاہئیں۔جیسے نماز بارہ سال کی عمر تک عادت کے طور پر پڑھائی جاتی ہے فرض کے طور پر نہیں۔اسی طرح روزہ کی بلوغت تک سے قبل تھوڑے تھوڑے روزے رکھوانے چاہئیں تاکہ مشق ہو لیکن اگر سارے روزے رکھوائے جائیں گے تو صحت خراب ہو جائے گی۔جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بڑی عمر میں جب وہ روزے رکھنے کے قابل ہو گا روزے نہیں رکھ سکے گا اور روزے رکھنے کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی ناکارہ ہو جائے گا۔دراصل بچہ کے لئے سترہ اٹھارہ سال تک کی عمر نشو و نما کا زمانہ ہوتا ہے۔اگر کوئی یہ خیال کرے کہ اتنی عمر کا لڑکا روزے رکھ کر روحانیت میں ترقی کرے گا تو یہ صحیح نہیں ہے۔عام حالات کو مد نظر رکھ کر میں اکیس سال کی عمر میں ایسا زمانہ آتا ہے ہاں استثناء کی صورتوں میں اس سے پہلے بھی یہ بات حاصل ہو جاتی ہے۔مجھے اپنے متعلق یاد ہے کہ میری گیارہ سال کی عمر تھی اس وقت میں نماز کبھی کبھی نہ پڑھنا تھا اور شرعا مجھ پر فرض نہ تھی۔مگر مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے حضرت صاحب کا جبہ تبرک کے طور پر پہن کر دعا کی کہ اب میں کبھی نماز نہ چھوڑوں گا مجھے یہ توفیق حاصل ہو۔چنانچہ پھر کبھی نہ چھوڑی مگر یہ خاص حالات کی وجہ سے تھا۔ہر وقت دین کی باتیں کان میں پڑتی رہتی تھیں گھر اور باہر دین کا ہی چرچا تھا مگر عام طور پر ہیں ، اکیس سال میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے۔جائداد کے متعلق بلوغت جو رکھی گئی ہے وہ بھی اٹھارہ سال کے بعد کی ہے بارہ تیرہ سال کے لڑکے کے سپرد جائداد نہیں کر دی جاتی اور کہا جاتا ہے جائداد کے متعلق بلوغت اور ہے۔اسی طرح روزہ کی بلوغت بھی اور ہے اس کی اوسط اٹھارہ سال ہے جو سولہ سال سے شروع ہوتی ہے اور اٹھارہ سال تک مکمل ہو جاتی ہے۔انیس سال کا لڑکا پورے روزے رکھ سکتا ہے۔اس وقت ساٹھ فیصدی یہ خطرہ نہیں ہو گا کہ صحت کو نقصان پہنچے باقی چالیس فیصدی رہ جاتے ہیں۔انہیں چاہئے اپنی صحت کے متعلق خود فیصلہ کریں اور ان کے ماں باپ فیصلہ کریں اور پھر روزے رکھیں۔رقعہ لکھنے والے صاحب نے لکھا ہے میں نے دیکھا ہے ہے کئے اور مضبوط نوجوان روزے نہیں رکھتے مگر بچپن کی عمر کا ہٹا کٹا ہونا کافی نہیں ہوتا اس سے نشوو نما کے پورے ہونے کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔دیکھا گیا ہے کہ سترہ اٹھارہ سال کے مضبوط جوان مقابلہ میں اکیس بائیس سال کے جوانوں سے جو جسمانی لحاظ سے ان سے آدھے تھے جیت گئے۔پہلے پہل تو انہوں نے دوسروں کو خوب بہ بیٹا مگر پھر کمزور ہونے لگ گئے اور آخر ہار گئے۔وجہ یہ ہے کہ ان