خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 275

خطبات محمود ۲۷۵ سال ۱۹۲۸ لئے علی العموم پولیس کی دست برد میں آتے رہتے ہیں اور تھانیدار کو سب سے زیادہ اختیارات کا مالک سمجھتے ہیں کہتے ہیں اس نے ایک ای۔اے۔سی سے کچھ مانگا مگر اس نے مانگنے سے زیادہ اسے دے دیا۔اس فقیر کا دل دعا کی طرف مائل ہوا۔اور اس نے اس کے لئے یہ دعا کی کہ خدا تمہیں تھانیدار بنادے چونکہ اس کے نزدیک یہی درجہ سب سے بڑا تھا کیونکہ جہاں وہ جاتا تھا سپاہی اس کے پیچھے پڑ جاتے اور تھانیدار کے سامنے پیش کر دیتے۔پس رسول کریم ﷺ کے لئے یہ دعا کرنا کہ آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام والا درجہ دیا جائے ایسی ہی دعا ہے جیسے ای۔اے - ہی کے لئے یہ کہا گیا تھا کہ خدا تمہیں تھانیدار بنا دے اور حقیقت یہ ہے کہ اس طرح یہ دعا نہیں بلکہ بد دعا معلوم ہوتی ہے۔میرا خیال ہے میں نے کئی دفعہ اس کے متعلق بیان کیا ہے مگر سوال کرنے والے ایسے دوست ہیں جو اخباروں سے تعلق رکھتے ہیں اور تحریریں پڑھنے والے ہیں۔ممکن ہے ان کے حافظہ کی غلطی ہو اور ان کو میری بیان کردہ باتیں یاد نہ رہی ہوں یا ممکن ہے میں نے ایسی وضاحت نہ کی ہو جس کی ضرورت ہو اس لئے پھر بیان کرتا ہوں۔بات یہ کہ اعتراض دو جگہ پڑا کرتے ہیں۔ایک تو وہاں جو محل اعتراض ہو اور دوسرے ایسی جگہ جو محل اعتراض نہ ہو۔جو محل اعتراض جگہ ہوتی ہے وہاں بھی دو صورتیں ہوتی ہیں۔اول یہ کہ اعتراض غلط ہو اور دوسری یہ کہ اعتراض صحیح ہو مگر وہ بات نادرست ہو جس پر اعتراض پڑتا ہے۔مگر درود تو رسول کریم ﷺ نے سکھایا ہے اور آپ نے ہی نہیں سکھایا بلکہ خدا تعالٰی نے قرآن کریم میں اس کا ذکر کیا ہے۔اب ہم یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ درود میں غلطی ہے اس وجہ سے دوسرا پہلو ہی اختیار کرنا پڑے گا کہ ایسی جگہ پر اعتراض کیا جاتا ہے جو محل اعتراض نہیں ہے۔اس کے بھی دو پہلو ہیں ایک یہ کہ جن معنوں کے لحاظ سے اعتراض کیا جاتا ہے وہ غلط ہیں یا یہ کہ وہ معنی تو صحیح ہیں مگر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔مگر ہم جتنا بھی غور کرتے ہیں یہ اعتراض غلط معلوم نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے افضل ہیں اور اللہ تعالی نے کھلے لفظوں میں سب انبیاء سے افضل آپ کو بتایا ہے کیونکہ اکمل اور اتم دین آپ کو ہی دیا گیا۔اور ممکن نہیں کہ بڑا کام چھوٹے کے سپرد کیا جائے اور چھوٹا کام بڑے آدمی کے۔بڑا کام بڑے کو ہی دیا جاتا ہے اور چھوٹا چھوٹے کو۔کبھی کوئی عظمند یہ نہ کرے گا کہ گھسیارے کا کام تو ایک تعلیم یافتہ آدمی کے سپرد کر